خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد ۶ 136 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء وقف جدید کے آغاز میں وقف کرنے والے جو لوگ تھے ان میں یہ بھی شامل تھے اور ایک عرصے تک وقف جدید میں میرے ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔بہت اچھے قادر الکلام شاعر بھی اور بہت اعلیٰ پائے کے ادیب، اپنے ابا سے بہت سی خوبیاں انہوں نے ورثے میں پائیں تھیں۔ان کا بھی اچانک ہارٹ فیلیئر ہوا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ شادی کر لی تھی انہوں نے ورنہ بہت دیر سے دوست کہتے بھی رہتے تھے شادی کی طرف مائل نہیں ہوتے تھے۔اپنا ایک فقیرانہ مزاج تھا۔کہتے تھے میں نے کیا کرنی ہے شادی اور بہت اعلیٰ قسم کی نسل چھوڑ کے جاؤں تو تب میں شادی کروں، اس قسم کی باتیں ایک صوفیانہ مزاج کی وجہ سے کیا کرتے تھے لیکن آخر اللہ تعالیٰ نے دل کو مائل فرما دیا اب ان کا ایک بیٹا بھی ہے چھوٹا۔اللہ تعالیٰ اس کو اپنے باپ اور دادا کی خصوصا تمام نیکیوں کا وارث بنائے۔ایک ہمارے ربوہ کے مشہور مستری تھے مستری فیروز دین صاحب بجلی والی ان کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ایک ہمارے چوہدری نور احمد صاحب میر پور خاص کے، ان کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔چوہدری نور احمد صاحب کے والد بھی خدا کے فضل سے اپنے اخلاص اور دین کی قربانی میں بہت اچھا اونچا مقام رکھتے تھے ماشاء اللہ۔اسی طرح حافظ محمد رمضان صاحب کے بڑے داماد مکرم محمد لطیف صاحب زرگر وفات پاگئے ہیں اور مختار احمد صاحب ہاشمی جو خدمت درویشاں میں انچارج دفتر ہوا کرتے تھے ان کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ان سب کی نماز جنازہ غائب نماز عصر کے بعد ہوگی۔