خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد ۶ 116 خطبه جمعه ۲۰ فروری ۱۹۸۷ء کوششیں کرتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کی کچھ لونڈیاں چلتی ہیں جو ایندھن اٹھائے ہوئے اور جہاں بھی وہ بجھتی ہیں آگ میں کمی آنے لگی ہے وہ مزید ایندھن اس میں جھونکتی ہیں۔حکومت نے جو طریق اختیار کیا ہے اس میں قوانین کے ذریعے، نئے نئے قوانین کے ذریعے اور نئے نئے حکم ناموں کے ذریعے یہ جب بھی احمدیت کے خلاف مخالفت کی آگ ان کے خیال میں بجھنے لگتی ہے یہ اس میں مزید ایندھن جھونک دیتے ہیں۔ایک قانون کے بعد دوسرا قانون، دوسرے کے بعد تیسر ا جب اس سے بھی دل کی جہنم نہیں بجھتی تو پھر چوتھا قانون اور جہاں تک احمدیت کے خلاف قانون سازی کا تعلق ہے یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔جہاں تک عوام میں اس کے رد عمل کا تعلق ہے عوام الناس بالعموم حکومت کی ان حرکتوں کو خوب سمجھتے ہیں، وہ ان چالوں کو بھانپ گئے ہیں، ان کے مقاصد سے واقف ہیں اس لئے کوئی بھی پاکستان میں عوامی تحریک اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف نہیں ہے چونکہ وقتا فوقتا جماعت کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے مظالم کے متعلق اعداد و شمار جاری ہوتے رہتے ہیں اس لئے ساری دنیا کی احمد یہ جماعتوں کو کھل کر معلوم ہونا چاہئے کہ وہاں ہو کیا رہا ہے اور کون ذمہ دار ہے ورنہ بعض اوقات غلط نہی سے بے وجہ پاکستان کے خلاف دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان بحیثیت پاکستان ہرگز نفرتوں کا مستحق نہیں بلکہ رحم کا طالب ہے، ہمدردی کا مستحق ہے۔سارا ملک اس وقت انتہائی مظلوم ہے۔حکومت جوحرکتیں کر رہی ہے یہ چند لوگ ہیں اور ان کے ساتھ چلنے والے، ان کے پیچھے ایندھن اٹھانے والی چند لونڈیاں ہیں جو ان کے ساتھ ہیں۔اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔جہاں تک ملک کا تعلق ہے اس کی نفسیات میں ایک عجیب پیچ پایا جاتا ہے۔عوام الناس جہاں تک سیاست کا معاملہ ہے خوب جانتے ہیں اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت جھوٹی ہے اسے یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور بار بار ڈھونگ رچاتی ہے مختلف قسم کے تا کہ اپنی بقا کے لئے کوئی جواز تلاش کر سکے اور عوام الناس کے اوپر ایک لمحہ کے لئے بھی اس حکومت کے متعلق کسی قسم کی خوش فہمی ان کے دلوں میں نہیں پیدا ہوئی۔مسلسل وہ ان کو زیادہ جانچتے چلے جارہے ہیں، زیادہ ان سے متنفر ہوتے چلے جارہے ہیں زیادہ ان کے دل بھر تے چلے جارہے ہیں۔اس لئے عوام الناس اگر جماعت کے معاملے میں حکومت کی ان مذموم حرکتوں کا ساتھ نہیں دے رہے