خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 868
خطبات طاہر جلد۵ 868 خطبه جمعه ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء گئے ( تذکرہ: ۳۳۶) اگر اس الہام کا عمومی مطلب لیں تو پھر تو یہ خبر نعوذ بالله غلط نکلی کیونکہ ساری دنیا پر فری میسنز مسلط ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو الہام کیا گیا وہ آپ کی جماعت کے متعلق تھا اور یہ وعدہ تھا فری میسن تم پر مسلط نہیں کئے جائیں گے۔ساری دنیا ان کی غلام بن جائے گی تم آزاد مسیح ہو تمہارے وقت پر میں فری میسن کا قبضہ نہیں ہونے دوں گا۔اس الہام کی روشنی میں ہی جماعت کو اپنا پروگرام مرتب کرنا چاہئے اور ہر اس دجال کے چنگل سے آزاد ہونے کی کوشش کرنی چاہئے جس میں رفتہ رفتہ غیر شعوری طور پر خود بخود ہماری نسلیں ان کی غلام بنتی چلی جارہی ہیں، کچھ تو دنیا میں ایسے ہوں جو آزاد ہوں سوائے خدا کے کسی اور کی غلامی میں وہ سر نہ جھکاتے ہوں اور آپ نے چونکہ دنیا کو آزاد کرانا ہے اس لئے بہت ہی ذمہ داری ہے۔تو اس سال کے آخر پر اس لحاظ سے اپنے گزشتہ سال کا جائزہ لیں کہ آپ نے اور آپ کے بچوں نے اپنے آپ کو آزا در رکھنے کی کیا کوشش کی ، اپنے وقت کو بہترین مصرف میں استعمال کرنے کی کیا کوشش کی سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ کی طرف کیا توجہ کی ، آئندہ کے لئے اس روشنی میں کیا پروگرام مرتب کرنا چاہئے جس سے ہم آئندہ سال فائدہ اُٹھائیں اور سال کے آخر پر پھر جائزہ لیں کہ کس حد تک ہم اس میں کامیاب ہوئے۔ان امور کی طرف اپنے گھروں میں مجالس لگا کر توجہ کریں، جس طرح جماعت کی مجالس عاملہ بیٹھی ہوں گی۔اس طرح اب احمدی گھروں میں یہ تذکرے چلیں تا کہ آپس یہ میں باتیں کریں گے تو پھر دماغ اور زیادہ کھلیں گے اور روشن ہوں گے اور خیالات نشو و نما پائیں گے۔اکیلا بیٹھا آدمی بعض دفعہ اتنی سنجیدہ باتیں نہیں سوچ سکتا۔اکیلا سوچنے کی کوشش کرے تو بعض دفعہ بور بھی ہو جاتا ہے اور نیند بھی اس کو جلدی آجاتی ہے۔اس لئے آپ کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں مجالس میں موضوع سخن بنائیں، ان پر گفتگو کریں اور پھر بچوں کو ساتھ شامل کریں۔ان کو سمجھائیں کہ یہ سنی ہیں ہم نے باتیں جن کی روشنی میں ہمیں آئندہ کے لئے کچھ کرنا چاہئے تم کس حد تک تعاون کرو گے، کس حد تک ہم پروگرام کو بدلیں کہ زندگی کی لذتیں جو جائز ہیں وہ بھی حاصل کریں مگر اپنے وقت کو ضائع نہ ہونے دیں گے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔(آمین)