خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 830

830 خطبہ جمعہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۶ء خطبات طاہر جلد۵ ہوا کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا جہاں تک تعلق ہے اس کا تو یہ فیصلہ لکھا ہوا موجود ہے اس فیصلے کو تو آپ تبدیل نہیں کر سکتے ہیں جو چاہیں کر لیں۔جہاں تک جماعت احمد یہ کے عمومی رد عمل کا تعلق ہے یہ میں آپ کو اصولاً بتا دیتا ہوں جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ اپنے وفادار بندوں کے ساتھ بے وفائی نہیں کیا کرتا اور اللہ کے وفادار بندے بھی اپنے وفادار بندوں سے بے وفائی نہیں کیا کرتے۔تم جو چاہو کرو جس ملک میں تمہارا زور چلتا ہے۔خدا کی قسم ساری عالمگیر جماعت اپنے پیاروں سے وفا کر کے دکھائے گی اور جو کچھ قرآن کی تعلیم نے انہیں سکھایا ہے اسی طرح وہ اپنا انتقام لے گی۔ایک ایک قطرہ کا انتقام لے گی لیکن اس اصول کے مطابق لے گی جو اصول قرآن کریم نے اس پر واضح کیا ہے اور جو خدا نے اسے سمجھایا ہے۔مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل تمہیں بتاؤں لیکن یہ میں جانتا ہوں اور خدا نے قرآن کا فہم جتنا مجھے عطا کیا ہے ہمارے سامنے کھلا اور روشن لائحہ عمل موجود ہے اور ایسا عظیم الشان لائحہ عمل ہے کہ اس سے ٹکرا کر تم پاش پاش اور ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے لیکن کبھی تمہیں کامیابی نصیب نہیں ہوگی۔اس لئے جہاں بھی احمدی مظلوم ہے ساری دنیا کے احمدی اس کے ساتھ ہیں، خدا کی تقدیر اس کے ساتھ ہے اس کو کیا خوف ہے اور تاریخ عالم اس کے ساتھ ہے۔کسی قیمت پر بھی احمدیت کو نیست و نابود کرنے میں یہ ذلیل ورسوا دشمن کا میاب نہیں ہوسکتا۔ان کو جلدی اور افراتفری صرف اس بات کی پڑی ہوئی ہے کہ باوجود اس کے کہ موجودہ سربراہ جس نے حکومت کو از راہ غصب قبضے میں لیا ہوا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے دن کہیں تھوڑے نہ رہ گئے ہوں حالانکہ اس کے آقاؤں نے وعدہ کیا ہے کہ 1990ء تک تمہیں ضرور رکھیں گے۔اس کے خداؤں نے یقین دلایا ہے اس کو کہ ابھی تمہارے چند سال باقی ہیں لیکن اس بد نصیب کو اپنے خداؤں پر یقین ہو یا نہ ہو ان مولویوں کو اس کے خداؤں پر بھی یقین نہیں ،اس پر بھی یقین نہیں۔اس لئے یہ چاہتے ہیں کہ جس حد تک بھی ممکن ہو اس ظالم شخص کے دور کے اندر اور ہم جو کچھ کر سکتے ہیں ہم کر گزریں۔اس لئے ان کو جلدی ہے۔ان کو جلدی اس لئے ہے کہ دنیا کے خداؤں کا زمانہ محدود ہوا کرتا ہے۔ان کی طاقت کا عرصہ، ان کی طاقت کا دائرہ بھی محدود ہوا کرتا ہے لیکن احمد یوں کو کوئی جلدی نہیں۔