خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد۵ 829 خطبہ جمعہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۶ء ڈرپوک احمدی ہونا چاہئے کیونکہ وہ دیکھے گا کہ یہ تو بڑا جرم ہے کہ اس کی ایسی خطرناک سزا ملتی ہے یہ کلام الہی کی شان ہے کہ وعدہ یہ کر رہا ہے کہ جو اس ظلم کے بعد مسلمان ہوں گے، جو اللہ پر ایمان لانے والے ہوں گے ارتداد کے نتیجے میں یہاں قتل کا ذکر نہیں بلکہ ارتداد کا ذکر ہے جبر اتم کسی کو مرتد کر لو اس کے نتیجہ میں جو مسلمان ہوں گے وہ قوم در قوم ہوں گے اور پہلوؤں سے بڑھ کر زیادہ بہادر اور خدا کی راہ میں قربانیاں دینے والے ہوں گے۔جہاں تک قوم کے مٹنے کا تعلق ہے قرآن کریم مقتولوں کو شہید کہہ رہا ہے ، زندہ کہہ رہا ہے فرماتا ہے تم جن کو مار رہے ہو وہ زندہ ہو گئے ہیں اور تمہیں عقل نہیں ہے۔اس زندہ کے لفظ میں بھی کامیابی اور کامرانی کی پیشگوئی ہے۔پس جماعت احمد یہ جو خالصہ اللہ پر ایمان لانے والی ہے جس کا دین خالص ہے جو خدا کی خاطر ہر قربانی پر تیار ہے اس کو تم نا کام نہیں کر سکتے جو چا ہو کر لو۔تمہاری عقل کی حد تمہارے دین کا منتہا تو صرف اتنا ہی ہے نا کہ بکرے سجا کر قربانی کے لئے پیش کر دو۔اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ احمدیوں کی قربانی کرنی ہے۔تو مائیں اپنے بچے سجا کر اس قربانی کے لئے خدا کے حضور پیش کریں گی ، بیویاں اپنے خاوند سجا کر پیش کریں گی۔بہنیں اپنے لعل اپنے ویر سجا کر پیش کریں گی۔تمہاری قربانیوں کی کیا حیثیت ہے خدا کے نزدیک؟ یہ قربانی ہے جو خدا کو مقبول ہوا کرتی ہے لیکن اس کے علاوہ میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ تم نامراد اور رسوا ہو گے جس طرح پہلے تم اپنی ہر کوشش کے پھل سے محروم کئے گئے ہو یہ ذلت اور رسوائی بھی تمہارے مقدر میں لکھی گئی ہے کہ اس کوشش کے پھل سے بھی محروم کئے جاؤ۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع میں یہ وعدہ دیا ہے فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمةٍ لَّا يُبْصِرُونَ ) (البقرہ: ۱۸) آگ بھڑکاتے ہیں دشمنیوں کی اور خباثتوں کی اور سمجھتے ہیں کہ شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور اب ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب وہ سمجھیں گے کہ اب کامیابی ہمارا منہ چومنے لگی اور ہم کامیابی کو پاگئے ہیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ ان کا نور لے جائے گا اور ان کے مقاصد میں نامراد کر دے گا۔وہ اندھیروں میں بھٹکتا ہوا اپنے آپ کو پائیں گے اور کوئی سمجھ ہی نہیں آئے گئی کہ ہم سے۔