خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 808
خطبات طاہر جلد۵ 808 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء اسلوب میں جدید ترین ہے کہ قرآن کریم میں یہ ہے کہ ہماری ساری تعلیم جو ہم دے رہے ہیں اس کا اسوہ محمد مصطفی ﷺ کو بنا کر تمہیں دکھا دیا۔کوئی چیز بھی مہم نہیں رہنے دی۔کوئی چیز بھی نظریاتی ایسی نہیں رہنے دی جس کا عملی نمونہ تمہیں پیش نہ کر دیا ہو یہاں تک کہ منفی اقدار کا یہ ملی نمونہ مد مصطفی ہے کے مخالفین کی صورت میں تمہارے سامنے رکھ دیا۔اب جو چاہو طریق اختیار کرو۔آنحضرت علی کے جہاد کا مضمون تو بہت ہی وسیع ہے۔تو آج میں نے یہ مضمون اس لئے اختیار کیا ہے کہ گزشتہ چند خطبات میں میں جماعت کو مختلف رنگ میں جہاد کی طرف بلا رہا ہوں، بعض دوستوں کے ذہن میں آتا ہوگا ، ایک خط میں تو اس کا ذکر بھی تھا کہ آپ بار بار جہاد جہاد کیا کہتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ اسلام کا تصور ہر شعبہ زندگی میں جہاد کا ہے۔اس لئے جہاد کے سوا کوئی لفظ میرے ذہن میں ابھرتا ہی نہیں ، جب میں کوئی مضمون بیان کرتا ہوں تو طبعاً از خود رفتہ مضمون جہاد کے مضمون میں داخل ہو جاتا ہے۔ہر وہ کوشش جو اللہ کی خاطر کی جائے اور ان صفات حسنہ سے مزین ہو ، جن کا بیان اس آیت میں کیا گیا ہے وہ جہاد ہے اور کوئی کوشش بابرکت اور کامیاب ہو نہیں سکتی جو ان صفات حسنہ سے مزین نہ ہو۔اس لئے جب میں کہتا ہوں شدھی کے خلاف ہندوستان میں جہاد کرو، جب میں کہتا ہوں سچائی کے حق میں جھوٹ کے خلاف جہاد کرو، بدرسموں کے خلاف جہاد کرو اور اس قسم کے دوسرے مضامین میں لفظ جہاد بولتا ہوں تو جہاد تو اسلام کی ساری زندگی پر ایک حاوی مضمون ہے۔اس کے سوا کوئی اور لفظ پھبتا ہی نہیں ہے یہاں، لیکن جہاد میں کیا کیا چیزیں اختیار کرنی چاہئیں۔ان میں سے چند صفات حسنہ جہاد کی ، اس آیت میں بیان کی ہیں اور اس لئے میں ان کے متعلق جماعت کو وضاحت سے بیان کرنا چاہتا تھا۔ثبات قدم کا مضمون مثبت پہلو سے آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ میں پھیلا پڑا ہے اور منفی پہلو سے یعنی ثبات نہ ہو تو کیا ہوتا ہے منفی پہلو سے آنحضرت علیہ کے دشمنوں کے کردار میں پھیلا پڑا ہے اور قرآن کریم نے دونوں طرف واضح طور پر انگلیاں اٹھا کر ان دونوں کیفیتوں کو دکھایا ہے کہ دیکھ لو جو ہم کہتے ہیں اس طرح ہوا کرتا ہے۔حق کی مخالفت کرنے والے یہ طریق اختیار کیا کرتے ہیں حق کی تائید کرنے والے حق کو دنیا میں پیش کرنے والے یہ طریق اختیار کیا کرتے ہیں۔ان میں سے ایک مضمون کا حصہ بلاغ ہے یعنی پیغام کو دوسرے تک پہنچانا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا پہلے بھی یہ مضمون