خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 807
خطبات طاہر جلد۵ 807 خطبه جمعه ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء ہم سے استعمال کروانا چاہیے۔اس میدان میں کھینچ لائے جہاں وہ غالب ہے اور ہم کمزور ہیں۔جس میدان کے داؤ پیچ ہم جانتے نہیں۔اس لئے اے خدا! ہمیں ثبات قدم عطا فر ما ہمیں ہرگز اس میدان میں جانے پر مجبور نہ ہونے دینا اور اگر ہمارا دل چاہے بھی اور طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے ہم دشمن کی عادات اختیار کرنے کے لئے بے قرار بھی ہو جائیں بعض دفعہ اور دل ٹھنڈا نہ ہو جب تک اپنے طیش کا بدلہ نہ اتاریں۔جو اس نے ہمیں طیش دلایا ہے اس کا بدلہ نہ اتاریں تب بھی اے خدا ہمیں ثبات قدم عطا فرمانا ! ہمیں اُن صفات حسنہ پر قائم رکھنا جو تیرے نزدیک جہاد میں مثبت اقدامات ہیں تعمیری اقدامات ہیں ان میں کوئی بھی تخریبی حرکت نہیں۔ایک مبلغ جب اس مضمون سے آگاہ ہو کر دعا کرتا ہے تو اس کی دعا بہت ہی وسعت اختیار کر جاتی ہے اور منفی قدم میں پیچھے ہٹنا بھی مثبت قدم ہو ہی نہیں سکتا جب تک مزید زمین نہ جیتی جا رہی ہو۔قدم آگے بڑھے گا تو مثبت اقدام ہوگا، قدم پیچھے ہٹے گا تو وہ منفی اقدام ہے۔تو یہ غلبہ کی دعا بھی ہے اس لے وانصُرْنَا کی دعا اس کے نتیجہ میں طبعا ذہن میں ابھرتی ہے۔اے خدا! ہمیں پیش قدمی عطا فرما یہ بھی معنی ہیں کیونکہ پیچھے ہٹنا اور بھا گنا منفی اقدام ہے اور آگے بڑھنا اور آگے بڑھتے رہنا یہ ایک مثبت اقدام ہے۔اس پہلو سے جب ہم اس مضمون کے سارے گوشوں پر نظر رکھ کر دعا کریں تو نہ صرف یہ کہ ہماری دعا بہت زیادہ نفع مند بن جائے گی یعنی ہم خدا سے بہت زیادہ مانگ رہے ہوں گے یہ نسبت اس چھوٹی سی چیز کے یعنی کہ ہمارے پاؤں نہ ڈگمگائیں۔یہ تو بہت معمولی دعا ہے اس وسیع تر دعا کے مقابل پر۔دوسرے ہماری تربیت ہوگی ہمیں وہ سارے اسلوب سمجھ آجائیں گے جو جہاد کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں جن کے بغیر جہاد حقیقی معنوں میں مومنانہ اور اسلامی ہو ہی نہیں ہوسکتا۔مثبت جہاد کیا چیز ہے اس کی صفات کا جہاں تک نظریاتی تعلق ہے اس آیت میں مجتمع کر دی گئی ہیں، اکٹھی کردی گئی ہیں لیکن جب تک اس کے ساتھ اس کی عملی تصویر نظر نہ آئے Demonstration نہ ہو حقیقی معنوں میں ایک مضمون پوری طرح سمجھ نہیں آتا۔اسی لئے تعلیم کا جدید طریقہ دنیا میں ہر جگہ یہی ثابت اور معروف ہو چکا ہے کہ جہاں نظریات بتا ؤ وہاں اس کے نمونے بھی ساتھ دکھاؤ۔اسی پہلو سے اسلام دنیا کا سب سے زیادہ کامل سائنٹیفک مذہب ہے اور اپنے