خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد ۵ 792 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء صورت یہ بنتی ہے کہ احمدیوں کو جھوٹا بنانے کی زبر دتی کوشش کی گئی اور غیر احمد یوں کو زبردستی سچا بنانے کی کوشش کی گئی۔خلاصہ یہ ہے اسلام کی خدمت اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ زبردستی جھوٹا بنانے کی کوشش کی گئی تو مراد کوئی محاورہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے اس وقت۔ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کو ایک سچا دین سمجھ رہا ہے۔ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کی توحید کا قائل ہے اور دل کی گہرائیوں سے اس کے اوپر کامل ایمان رکھتا ہے۔ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کواللہ تعالیٰ کا پاکیزہ بندہ اور سچارسول سمجھتا ہے اور دل کی گہرائیوں سے اس بات پر ایمان رکھتا ہے۔اس سے زبر دستی، اس سے یہ کہلوانا کہ اسلام جھوٹا ہے اور میرا اس جھوٹے مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور خدا ایک نہیں ہے اور محمد رسول اللہ علے سچے نہیں ہیں، یہ زبردستی جھوٹ بلوا نانہیں تو اور کیا چیز ہے بلکہ جھوٹ بھی بدترین اور مکروہ ترین کہ اس سے زیادہ لعنتی جھوٹ متصور نہیں ہوسکتا۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہی ہو رہا ہے کہ احمدی سے کہا جا رہا ہے کہ تم دل میں جو کچھ چاہو یقین رکھتے ہو، تمہیں ہم مجبور کریں گے، مار مار کر سزائیں دے دے کر، جیلوں میں گھسیٹ کر ، جرمانے کر کر کے کہ تم یہ اعلان کرو کہ خدا ایک نہیں ہے پھر تم ہماری سزا سے بچ جاؤ گے۔یہ اعلان کر دو کہ محمد مصطفیٰ سے نہیں ہیں۔اگر یہ نہیں کرو گے تو ہم سمجھیں گے تم اسلام کی گستاخی کر رہے ہو ، رسول اللہ ہے کی گستاخی کر رہے ہو اور اگر یہ اعلان کرو گے کہ نعوذ باللہ خدا ایک نہیں ہے اور رسول اللہ علے سچے نہیں ہیں تو ہم کہیں گے ہاں اب ٹھیک ہے اب تم گستاخی سے باز آ گئے ہو۔یہ ہے نفاذ اسلام کی ایک کوشش کہ احمدیوں کو سچائی سے روک دیا جائے اور قانون بن چکا ہے کہ احمدی کو سچ بولنے نہیں دینا اگر سچ بولے گا تو اس کی سزا ملے گی ہر احمدی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان سمجھتا ہے۔آپ کو پتہ ہے کہ جب گذشتہ جلسہ سالانہ پر احمدیوں نے کثرت کے ساتھ یہاں آنا شروع کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو اس کے نتیجہ میں ایک حسد پیدا ہوا اور تو کچھ نہیں کر سکتے تھے مگر جن احمد یوں نے پاسپورٹ پر مسلمان لکھوایا ہوا تھا ان کو یہاں آنے کی بجائے قید میں ڈال دیا گیا۔انہوں نے کہا ہمارا جرم کیا ہے انہوں نے کہا جرم یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو۔انہوں نے کہا ہم تو سمجھتے ہیں اپنے آپ کو مسلمان ہم اور کیا کہیں؟ کہا سمجھتے جو مرضی ہو گے قانون مجبور کر رہا ہے