خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد ۵ 791 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء پر حملہ آور ہورہے ہیں، ان کو زدوکوب کر رہے ہیں، ان کی آنکھوں میں مرچیں ڈالی جارہی ہیں اور لٹا کر ٹھڈوں سے اور ڈنڈوں سے مارا جارہا ہے اور عدالت میں پیش ہونے کے لئے آئے ہیں یہ موقع ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ حکومت اس سے بے خبر ہے یا بے قصور ہے یہ تو بالکل احمقانہ بات ہے۔عملاً حکومت اس کو انگیخت کرتی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو ماریں پڑتی ہیں ان کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور جو مارنے والے ہیں وہ سارے آزاد ہیں۔ہر دفعہ یہی واقعہ ہوا ہے ہر دفعہ جب وہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں کلمہ کی محبت والے، تو پہلے ان کو مارا گیا پھر جیل میں ڈالا گیا اور ہر دفعہ مارنے والے آزاد ہوئے اور جن کو مارا گیا تھا ان میں سے جنہوں نے کلمہ نہیں بھی لگایا ہوا تھا ان کو بھی جیل میں ڈالا گیا۔غرضیکہ جو کچھ انہوں نے کرنا تھا کیا، جو کر سکتے ہیں کر رہے ہیں، لیکن احمدیت سے کلمہ طیبہ محمدیہ کو نہیں نوچ سکے نہیں چھین سکے۔احمدیوں کے دلوں میں اس محبت کو کم کرنے کی بجائے مٹانے کی بجائے ، انہوں نے اس کو اور بھی زیادہ بڑھا دیا۔جبر وتشدد کے ذریعہ خوف دلانے کی بجائے انہوں نے بزدلوں کو بھی شیر بنا دیا، کمزوروں کو بھی طاقتور کر دیا ہے۔پس لا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کی آیت ہمیں اس پہلو سے بھی وہاں عمل کرتی ہوئی نظر آرہی ہے اور وہ لوگ جن کے متعلق یہ دعوی تھا کہ ان کو کلمہ سکھائیں گے اور ان میں تو حید پیدا کریں گے نہ وہ کلمہ سیکھ سکے نہ ان میں توحید کی باتیں باقی رہیں ایک دوسرے سے لڑنے لگے، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرنے لگے ملک پھٹنے لگا، تو حید باری تعالیٰ تو در کنار وحدت ملی بھی باقی نہیں رہی۔ایسا انتشار کا شکار ہوا کہ بہت کم ایسے بدنصیب ملک ہیں آج دنیا میں جو اس حد تک انتشار کا شکار ہو چکے ہوں۔اور بھی کوششیں کی گئیں: سچائی کی عادت ڈالنا، دیانت داری سکھانا ، حب الوطنی پیدا کرنا، چادر اور چار دیواری کی حفاظت، ملک میں امن و امان اور سلامتی پیدا کرنا، یہ ساری اسلام کی مثبت کوششیں ہیں جو حکومت نے دعویٰ کیا کہ ہم مسلمانوں میں ان اسلامی اخلاق کو اور اسلامی اقدار کو رائج کر کے دکھا ئیں گے لیکن اس سے چونکہ اسلام کی خدمت مکمل نہیں ہوتی تھی اس کے برعکس احمدیوں کو ہر قرآنی حکم سے رکنے کی تاکید کی گئی اور متنبہ کیا گیا کہ تمہارا چونکہ قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں اگر تم قرآنی سچائیوں پر عمل کرو گے تو ہم بزور شمشیر تمہیں اس عمل سے باز رکھیں گے۔چنانچہ اس کے برعکس