خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 781
خطبات طاہر جلد۵ 781 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء میں قرآن اور قرآن کی تعلیم پھیلاتی چلی جائے۔ہمیں ان لوگوں سے کوئی خوف نہیں ہے۔ہم خدا کے بندے ہیں ، ہم خدا کے مومن بندے ہیں۔ہم ہلاکتوں سے زندگیاں نچوڑ نا جانتے ہیں۔اس لئے جتنی ہلاکتیں یہ ہمارے لئے تجویز کریں گے اتنی ہی زیادہ زندگی کا رس ہم ان ہلاکتوں سے نچوڑ لیں گے اور وہ رس ہمیں مزید زندہ کرتا چلا جائے گا۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: آج نماز جمعہ اور عصر کے بعد کچھ نماز جنازہ غائب ہوں گی۔ایک زلیخا جوا ہیر صاحبہ جو حنیف جوا ہیر مرحوم سابق پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ماریشس کی والدہ تھیں ان کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔یہ غالبا وہاں اولین احمدیوں میں سے تھیں۔مکرم اعجاز احمد صاحب انسپکٹر تحریک جدید احمد نگر کے نو جوانی کے عالم میں وفات پاگئے ہیں۔ان کی بیماری کی اطلاع جہاں تک مجھے ملی ہے یہ انسپکٹر تھے اور گرمیوں میں دورے کے نتیجہ میں انہیں سن سٹروک ہوا اور پھر لمبا عرصہ چلا اور بگڑ گیا اسی سے وفات ہوئی تو خدمت دین میں انہوں نے وفات پائی ہے۔مولوی احد اللہ صاحب آف شوپیاں کشمیر انڈیا۔ثریا صادق یہ ہماری لجنہ کی بہت اچھی کارکن ہیں ان کے چا سید محمد شاہ سیفی کے متعلق پرائیویٹ سیکرٹری نے اطلاع دی ہے کہ حادثے میں وفات پاگئے ہیں۔مکرمہ امتہ الحق صاحبہ اہلیہ غلام حیدر بھٹی صاحب یہ عبدالغفور زعیم انصار اللہ فرینکفرٹ کی والدہ تھیں۔شعبان احمد نسیم سیکرٹری مال گوجرانوالہ اپنی والدہ کی نماز جنازہ غائب کی درخواست کرتے ہیں۔مولوی عبدالمالک صاحب صدر جماعت کو ٹلی لوہاراں وفات پاگئے ہیں۔با بومحمد شفیع صاحب آف کنری جو محد سمیع صاحب جرمنی کے والد تھے ان کی درخواست ہے کہ ان کو بھی نماز جنازہ غائب کی فہرست میں شامل کر لیا جائے۔