خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 721
خطبات طاہر جلد۵ 721 خطبه جمعه ۳۱ را کتوبر ۱۹۸۶ء آیا۔ان کے چہرے پر آثار ہی ظاہر نہیں ہوئے پتہ ہی نہیں کہ دادا کون ہے اور کس جگہ سے تعلق رکھنے والے تھے کس خاندان کے تھے ابتدا میں انہوں نے کیا قربانیاں پیش کیں۔تو سوالات کا مقصد تو یہی تھا کہ کہ پتہ لگے کہ نئی نسل کو اپنے محسنوں کا پتہ ہے کہ نہیں۔ضمناً مجھے خیال آیا کہ جب ان کو پتہ ہی نہیں ہے تو ان بے چاروں نے پرانے کھاتے کیا زندہ کرنے ہیں اس لئے یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ اپنی نسلوں کو اپنے خاندان کے بزرگوں کے واقعات بتائیں اور ان کو پوری طرح روشناس کرائیں کہ احمدیت کس طرح ان خاندانوں میں داخل ہوئی کس قسم کی قربانیاں انہوں نے دیں ؟ کیا ان کا مقام اور مرتبہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے کیا کیا نشانات ان پر ظاہر فرمائے ، کیسا ان کو جماعت سے عشق تھا۔کیسا والہانہ تعلق تھا اور ان کا اثر رسوخ علاقہ میں کیا تھا ، کیسے معزز لوگ تھے وہ۔یہ سارے واقعات ایسے ہیں جن کا ذکر عام ہوتے رہنا چاہئے۔اگر یہ ذکر چلے گا تو آپ کی اگلی نسلوں کا پہلی نسلوں کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہوتا چلا جائے گا اور یہ جو خطرہ درپیش ہے باہر کے رہنے والوں کو کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو یہاں کا معاشرہ ہم سے چھین نہ لے اس کے دفاع کے لئے یہ جو بندھن باندھیں گے آپ ان کے اور اپنے پرانے آباء واجداد کے درمیان یہ بہت ہی مفید کام سر انجام دیں گے۔اس لئے یہ بھی کریں اور ان کے دل میں یہ محبت پیدا کریں کہ اپنے ان بزرگوں کے احسانات کا بدلہ اتارنے کی خاطر تلاش کر کے ان کے تحریک جدید کے دور اول کے کھاتوں کو زندہ کریں۔میں نے یہ ٹارگٹ دیا تھا تحریک جدید کو کہ دفتر اول کے کھاتوں کو جو زندہ کرنا ہے انہوں نے مطلب یہ ہے کہ وہ تو ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں خدا کے فضل سے مگر ان معنوں میں زندہ کہ ان کی طرف سے جو رقمیں دی جانی بند ہوگئی تھیں ، وہ دوبارہ شروع ہو جائیں۔اس میں آپ نے اس سال سات لاکھ کا اضافہ کرنا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ سات کے بجائے ساڑھے گیارہ لاکھ روپیہ کا اضافہ ہو گیا ہے یعنی ساڑھے گیارہ لاکھ روپیہ وہ ہے جو سارے کھاتے کا سالہا سال تک بھی نہیں بنا تھا۔ٹوٹل کا ٹوٹل دفتر اول بھی بہت دیر کے گیارہ لاکھ کی حد کو پہنچا تھا اور اب ایک سال میں ان کے نام پر اضافہ کرنے والے اللہ کے فضل سے قربانی کا جو مظاہرہ کر رہے ہیں وہ ایک سال میں گیارہ لاکھ سے اوپر ان کی طرف سے دیا جا چکا ہے۔