خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 711 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 711

خطبات طاہر جلد ۵ 711 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء لانے والے مراد نہیں ہیں مسلمان بلکہ ایمان لا کر اس ایمان کو اپنے اعمال میں سچا کر دکھانے والے ہیں۔اپنے نیک اعمال سے یہ ثابت کرنے والے ہیں کہ جن باتوں پر ہم ایمان لائے تھے حقیقہ ان پر ایمان لائے ہیں عملی زندگی میں ان باتوں کو کر دکھانے والے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ آج اسلام کی سچائی کا دارو مدار بھی ان چند لوگوں پر ہے جو إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ کی تعریف کے نیچے آتے ہیں۔آج تمام دنیا کے امن کے امکانات ان چند لوگوں سے وابستہ ہو چکے ہیں جو الَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ کے استثنا کے نیچے آتے ہیں۔آج خدا اور بندے کے تعلقات میں امن کی کوئی ضمانت دینے والی بات اگر ہے تو یہی ہے کہ یہ چند لوگ کم سے کم اپنے اور اپنے رب کے تعلقات میں امن حاصل کر چکے ہیں اور جو شخص اس دین کا رستہ اختیار کرے گا وہ بھی بالآخر اس امن کی حالت کو پہنچ جائے گا۔پس اپنی کیفیت کو پہلے جانچیں اور پھر فیصلہ یہ کریں کہ آیا دنیا کو وہ امن نصیب ہوگا یا نہیں جو اسلام کے لفظ کے تابع جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔اگر آپ کے اندرونے میں وہ امن موجود نہیں ہے، اگر آپ کے اندر طمانیت نہیں ہے اور سکینت نہیں ہے اور یہ یقین نہیں ہے کہ آپ امن کے رستے پر روانہ ہوئے ہیں ،امن کے رستوں کو پکڑے ہوئے ہیں۔اگر اندرونی طور پر آپ با مقصد زندگی نہیں گزار رہے اور ایک اندرونی بے چینی ہے جو آپ کو بے قرار رکھتی ہے تو پھر اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْاِسلام کے دعوے کی سچائی ثابت کرنے کے آپ اہل نہیں ہیں۔اگر آپ کے عائلی تعلقات بدامنی کا شکار ہو چکے ہیں اور اسی طرح کے دکھ آپ کی عائلی زندگی میں بھی ہیں جیسے بیرونی عائلی زندگی میں پائے جاتے ہیں اگر آپ کے گھر جنت کا گہوارہ نہیں ، اگر آپ کے گھر کی عورت مظلوم ہے اسی طرح جس طرح غیر کے گھروں کی عورتیں مظلوم ہیں اگر اسی طرح آپ بے وفا ہوچکے ہیں اور عورتیں بے وفا ہو چکی ہیں۔اگر اسی طرح آپ ظالم ہو چکے ہیں اور جواب میں عورتیں بھی ظالم ہو چکی ہیں اگر گھر کے بندھن اندرونی تعلقات کے بندھن ٹوٹ چکے ہیں اگر بچوں کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں گھر ایک محض ظاہری طور پر اکٹھے ہونے کی جگہ ہے جیسے ہوٹل میں اکٹھے ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر ، ایک دوسرے کو دکھ پہنچانے کی جگہ بن چکا ہے تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ اسلام کے سوا اور کوئی دین نہیں۔کم سے کم