خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد۵ 710 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء پیشگوئیاں ان کے امن کے متعلق کی ہیں وہ ان کو نصیب ہوں گی۔نہ صرف یہ کہ وہ خود امن میں ہوں گے بلکہ دوسروں کو امن کی طرف بلانے والے ہوں گے۔اور دوسروں کو امن عطا کرنے والے ہوں گے۔اگر آج جماعت احمدیہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحُتِ کی مصداق جماعت نہیں ہے تو پھر اور کون سی جماعت ہے اور اگر یہ جماعت اس آیت کا مصداق ہے اور حقیقتاً مصداق ہے تو پھر گھاٹا پانے والوں اور اس جماعت کے کردار اور اعمال اور سیرت اور طرز عمل میں اتنا نمایاں امتیاز ہونا چاہئے کہ دنیا آپ کو حقیر سمجھتے ہوئے بھی یہ دیکھنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہو یہ پہنچانے کا اختیار رکھتی ہو کہ ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو واقعہ امن میں ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن سے دنیا کا مستقبل کا امن وابستہ کیا جا سکتا ہے لیکن اگر خدانخواستہ جماعت احمدیہ اپنی عملی تصویر میں یہ نقشہ پیش ہی نہ کر سکے اور الا کے استثناء میں آنے کی بجائے ان لوگوں میں داخل ہونا شروع ہو جائے جن کی بدامنی کا زمانہ گواہ ہو چکا ہوگا تو پھر نعوذ باللہ من ذالک قرآن کریم کی یہ آیت غلط ثابت ہوگی ، قرآن کریم کی یہ پیشگوئی بالکل بے معنی ہو جائے گی۔اس لئے آج قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی صداقت کا انحصار آپ کے عمل پر ہے۔آپ اگر آج نیک اعمال بن کر دنیا کو دکھا سکتے ہیں، آج اگر آپ گھاٹا پانے والی دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے گھاٹوں سے بچ کر ایک سودمند زندگی گزار سکتے ہیں تو پھر یقینا قرآن کریم کی یہ آیت آپ کے حق میں پوری ہوگی اور بڑی شان کے ساتھ پوری ہوگی پھر یقینایہ توقع وابستہ کی جاسکتی ہے کہ آپ دنیا کی تقدیر بدلنے والے ہوں گے اور دنیا کا امن آپ کی ذات سے وابستہ ہو چکا ہے۔اگر یہ نہیں تو پھر محض دعووں کے ذریعہ یا نظریات کی برتری ثابت کرنے کے ذریعہ آپ دنیا پر قطعاً کوئی فتح نہیں پاسکتے۔یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی بات ہے کہ جس کے متعلق ایک ذرہ شک کی بھی گنجائش نہیں۔اگر نیک اعمال کے بغیر دنیا پر آپ فتح یاب ہو سکتے تھے تو قرآن کریم کو یہ شرط لگانے کی ضرورت نہیں تھی کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے۔پس ایمان لانے والے اسلام پر تو کروڑہا کروڑ موجود ہیں ، اس کثرت سے ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتوں پر بھی قابض ہیں، بڑے بڑے علاقوں میں ان کو اکثریت حاصل ہے۔مگر قرآن نے ان کو مستی نہیں فرمایا کیونکہ شرط یہ لگادی إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ صرف ایمان