خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 671

خطبات طاہر جلد۵ 671 خطبه جمعه ارا کتوبر ۱۹۸۶ء مجھے کہا کہ میری صرف ایک درخواست ہے۔میں نے کہا کیا ہے؟ کہ اب مجھے گلے لگنے دیں اور اس محبت سے گلے لگایا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ تو میری دعا کا جواب ہیں۔صبح بھی میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی اور اب بھی بیعت کے دوران میں سوچ رہا تھا کہ کاش وہ بھی ہوتے تو وہ بھی ہاتھ رکھ لیتے اور وہ بھی شامل ہو گئے۔وہاں صرف کینیڈین دوستوں میں ہی سعادت نہیں بلکہ وہاں جو پاکستانی بس رہے ہیں ان میں بھی سعادت پائی جاتی ہے۔بہت جگہ ہے کام کی، بہت گنجائش ہے اور جو مولوی جاتے ہیں وہ الٹا اثر چھوڑ کر آتے ہیں۔اس لئے بہت دعا میں یا درکھیں کینیڈا کی سرزمین کو۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ ان کی سعادت کو بڑھائے اور جو نیکی انہوں نے جماعت سے کی اس کی جزاء دے۔ایسا ایک طبعی رد عمل ہے جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے جو محسوس کرے جو ان باتوں سے گزرا ہواس کو اندازہ ہوتا ہے کہ عام قوموں سے مختلف ہے۔میں ایک مثال دیتا ہوں چھوٹی سی لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے مزاج میں ایک ایسی سعادت اور شرافت پائی جاتی ہے۔ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر تھا جہاز کا۔جب جہاز کے کپتان کو پتہ چلا کہ جماعت احمدیہ کا سر براہ سفر کر رہا ہے۔وہاں الگ بیٹھنے کے لئے کیبن وغیرہ نہیں ہوتا تو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو وی۔آئی۔پی میں بٹھانا چاہتے ہیں ،آپ ہمارے ساتھ وہاں تشریف لے آئیں اور وہاں ٹھہریں۔اب یہ بات مجھے تو قطعا کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں نے بہت سفر کئے ہیں چاہے تھرڈ کلاس ہو یا کسی قسم کی ہو میرا مزاج ہی نہیں ان باتوں کو اہمیت دینے کا کہ سیٹ کیسی ہے۔جہاں بیٹھیں لطف اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اور ملنے کا بھی مزہ آتا ہے۔لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی سعادت کا یہ حال ہے کہ ویسے وہ مذہب سے دور ہیں عام طور پر لیکن مذہب کا احترام بھی ہے ان کے دل میں۔یہ واقعہ ابھی ختم نہیں ہوتا اس سے اگلا حصہ نہیں اور زیادہ حیرت انگیز ہے۔ان کی شرافت کے نتیجے میں ہمارے ایک ساتھی نے سوچا کہ واپسی کا کپتان پتہ ایسا ملے یا نہ ملے کہ ان سے ہی کہہ دیں کہ واپسی کے لئے جو بھی کپتان ہواس کو بھی درخواست کر دیں ہماری طرف سے۔اب یہ بات سخت شرمندہ کرنے والی تھی میرے لئے۔انہوں نے تھوڑی سی بات کی تھی کہ واپسی پے تو ہمارا، شاید فلاں وقت ہو۔تو میں سمجھ گیا۔میں نے کہا