خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد۵ 664 خطبه جمعه ارا کتوبر ۱۹۸۶ء منٹ کا تھا اس کا ایک حصہ سوال و جواب پر پر مشتمل تھا ہر قسم کا سوال جو چاہیں وہ کریں۔وہ Live پروگرام تھا یعنی ساتھ ساتھ وہ پروگرام دکھایا جارہا تھا۔اس میں کوئی ردو بدل نہیں کر سکتے تھے اور اس کا ایک حصہ ٹیلیفون پر سوالات کے لئے وقف تھا۔جو چاہے ٹیلیفون پر سوال کرے اس کو اسی وقت جواب دیا جاتا ہے۔اس کے دوران مشن کا نمبر بھی لکھا ہوا دکھایا اور بول کر بھی بتایا کہ اگر کسی کو دلچسپی ہو تو اس مشن سے اس نمبر سے وہ رابطہ کر کے آئندہ اپنی سوالات کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔اس پروگرام کے دوران ہی مشن ہاؤس میں فون آیا اور فون کرنے والے نے بتایا کہ میں تو پکا ہر یہ تھالیکن یہ پروگرام دیکھتے ہی میرے اندر تبدیلی پیدا ہوگئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے موقع دیں اور میرے سوالات کا جواب دیں۔تو میں گہری دلچسپی لینا چاہتا ہوں۔اس مسئلہ میں ایسی اچھی اور فوری Respons ایک دہریہ کی طرف سے بڑا تعجب انگیز ہے اور خوش آئند ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دہریت بھی سطحی ہے۔ورنہ اتنی جلدی ایک ایسے پروگرام سے متاثر ہو جانا جس کا براہ یت سے تعلق نہیں تھا یعنی مذہبی پروگرام تو تھا لیکن خاص طور پر دہریوں کے اعتراضات کے جوابات سے تعلق رکھنے والا پروگرام نہیں تھا، متفرق سوال تھے اور اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اور فائدہ یہ بھی ہوا کہ پاکستانی سوسائٹی جس کو یک طرفہ پراپیگنڈے نے جماعت احمدیہ سے دور پھینکا ہوا تھا وہ بھی اس پروگرام کو دلچسپی سے سنتی رہی اور اس کے نتیجہ میں دوسرے دن کی ہماری جو مجلس تھی اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے جنہوں نے گویا حلف اٹھا رکھے تھے کہ ہم نے جماعت احمدیہ کی بات کبھی سنی ہی نہیں۔ایک خاتون نے بتایا کہ میرے میاں اتنے دشمن،اتنے شدید قسم کے متنفر تھے جماعت سے کہ گھر میں بھی ذکر تک نہیں چلنے دیتے اور وہ پروگرام دیکھنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں ان کی کل کی مجلس میں ضرور شامل ہوں گا اور جب وہ شامل ہوئے تو مجلس ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہیں گئے پھر مغرب وعشاء کی نماز پر بیٹھے رہے۔پھر اس کے بعد جو ہماری اندرونی ایک مجلس لگی اس میں بھی شامل ہوئے اور ان کے رویہ سے اور ان کے ساتھیوں کے ان کے اور بھی بہت سے اہم ساتھی جو جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش تھے وہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے ، ان کے رویہ سے پتہ چلتا تھا کہ ان کے اندر شرافت موجود ہے اور سعادت ہے۔بات کو محض ضد کی وجہ سے نہیں ٹالتے بلکہ