خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد۵ 58 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء لئے کہ یہ لوگ سمجھ جائیں۔وَكَذَبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ۔تیری قوم نے اے محمد مصطفی ﷺ اس کو جھوٹا قرار دیا ہے۔یہاں بس سے مراد آنحضرت علی کا پیغام یا قرآن کریم ہے۔وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ۔ان سے کہہ دے کہ میں تم پر نگران اور ذمہ دار نہیں ہوں۔نگران ان معنوں میں تو ہیں حضور اکرم ﷺ جن معنوں میں شاھد اور شہید میں نگرانی کا ذکر ہے مگر ان معنوں میں نہیں کہ وہ اگر کوئی برا فعل کریں تو حضوراکرم علی اس کی جواب دہی کریں۔پس داروغہ کا لفظ غالباً زیادہ بہتر ترجمہ ہے وکیل کے لحاظ کے لئے ، وکیل کا ترجمہ داروغہ کرنا بہتر رہے گا۔لِكُلِّ نَيَا مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ۔ہر خبر کے لئے ایک مقررہ وقت ہوا کرتا ہے وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ اور یقینا تم عنقریب جان لو گے۔یہ آیات تین قسم کے عذابوں کی خبر دے رہی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ وحی نازل ہوئی تو اس پر آپ کا رد عمل کیا تھا۔یہ ایک بہت ہی دلچسپ مطالعہ ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے عشاق کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (یعنی اس آیت کا یہ ٹکڑا جو ابھی پڑھ کر میں سناتا ہوں قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ کہہ دے ان سے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ تمہیں تمہارے اوپر سے عذاب کے ذریعہ سے پکڑے یا تمہارے اوپر سے عذاب نازل فرمائے) قَالَ رَسُولُ اللهِ الله أَعُوذُ بِوَجْهِكَ کہ اے اللہ میں تیری ذات کی عظمت کی پناہ چاہتا ہوں، تیرے چہرے کی پناہ مانگتا ہوں۔پھر یہ آیت آپ نے پڑھی اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب ظاہر فرمائے۔قَالَ اَعُوذُ بِوَجْهِكَ اے اللہ ! میں تیرے چہرے کی عظمت تیرے وقار کی اور تیری شان کی پناہ مانگتا ہوں۔أوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَ يُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ پھر یہ ٹکڑا تلاوت فرمایا، یا تمہیں آپس میں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کا عذاب دوسرے کو پہنچائے۔اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرما یا هذَا اهْوَنُ اَوْ قَالَ هَذَا أَيْسَرُ فرمایا ہاں یہ نسبتا نرم بات ہے، یہ زیادہ آسان بات ہے۔صحیح بخاری کتاب التفسیر میں یہ روایت درج ہے۔( صحیح بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۶۷۶۹)