خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 630

خطبات طاہر جلد۵ 630 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء ہیں تو اس کے بہت ہی گہرے اثرات آپ کی اولا دوں پر مترتب ہوں گے۔ایک بنیادی اصول ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے جس کو بھلانے کے نتیجہ میں قو میں بعض دفعہ شدید نقصان اٹھاتی ہیں اور قوموں کی ترقی اور تنزل میں یہ بنیادی اصول ہمیشہ کارفرما رہتا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ جب آپ نیکی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو یہ اوپر کا رستہ ہے جس کے لئے دقت ہوتی ہے اور مشکل پڑتی ہے۔up hill task یعنی چڑھائی پر چڑھنے کا رستہ ہے اور جب آپ بدی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو وہ اترائی کا رستہ ہے جو نسبتاً آسان ہے اور آپ کے قدموں میں تیزی پیدا کرنے والا رستہ ہے۔اس لئے جب ماں باپ نیک ہوں تو ہر گز ضروری نہیں کہ اولا دبھی خود بخود نیک بنے۔ماں باپ کا نیکی کا رستہ ایک مشکل رستہ ہے۔اس لئے وہ دس قدم چلیں گے تو ایک قدم اولا د آئے گی۔سوائے اس کے کہ وہ دس گنا محنت کریں اپنی اولاد پر۔اس لئے صرف نیک ماں باپ کی اولاد نیک نہیں ہوا کرتی۔ان نیک ماں باپ کی اولا دنیک ہوتی ہے جو اپنی نیکی کے علاوہ اپنی اولا د پر دس گنا محنت کرتے ہیں اور بدی کا رستہ اترائی کا رستہ ہے۔اگر ماں باپ ایک قدم بدی کی طرف اٹھائیں گے تو اولا د دس قدم آگے بڑھائے گی۔اور صرف ایک قدم پر نہیں ٹھہرے گی۔اس لئے وہ بے احتیاطیاں جو آپ معاشرتی لحاظ سے یا تمدنی لحاظ سے یا اخلاقی لحاظ سے یا مذ ہب کے اعلیٰ تقاضوں کے لحاظ سے کر جاتے ہیں ان کا اولاد پر اثر مترتب ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ مائیں جو مغربی تہذیب سے مسحور ہو جاتی ہیں اور متاثر ہو جاتی ہیں ان کے بالوں کے کٹنے کے انداز میں ، ان کے گفتگو کے انداز میں، ان کے اپنے بدن کو سمیٹنے یا نہ سمیٹنے کے انداز میں ، ان کی چال ڈھال میں نظر آنے لگ جاتا ہے کہ یہ ہاتھ سے نکل رہی ہیں، مسحور ہو چکی ہیں ایک دوسری تہذیب سے۔مجبور ہیں زیادہ قدم اس لئے نہیں اٹھا سکتیں کہ دیکھنے والی آنکھیں ایسی ہیں جن کے دیکھنے کو یہ نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ان کے بزرگ ہیں، ان کے بھائی ہیں، ان کے خاوند ہیں ،ان کے دوسرے عزیز ہیں جو جب ان کو دیکھتے ہیں تو ان کی حفاظت کرتے ہیں۔اگر یہ ساری آنکھیں ہٹ جائیں ، یہ ساری نگرانی ختم ہو جائے تو جہاں وہ کھڑی ہیں اس سے کئی گنا زیادہ آگے ایک غلط راستے کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دیں گی۔اس لئے ایسی خواتین جب پردہ تو ڑتی ہیں یا پردے سے بے پردگی کی طرف رفتہ رفتہ بھی قدم بڑھاتی ہیں تو یہ سمجھ لینا کہ ان کی اولا دان کی حقیقت کو سمجھ نہیں رہی