خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 626
خطبات طاہر جلد ۵ 626 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء جائے لیکن وہ خواتین جو ایسے ماحول میں پرورش پاچکی ہیں جہاں برقع اور پردہ ہم آہنگ ہو چکے تھے۔ایک ہی چیز کے دو نام سمجھے جاتے تھے ، وہاں ان کا برقع چھوڑ نا عملاً پردہ چھوڑنے کے مترادف ہو جاتا ہے اور بسا اوقات برقع چھوڑ نا احساس کمتری کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ہزار بہانے وہ نفس کے تلاش کریں کہ نہیں یہاں تو برقعے کی ضرورت نہیں ، یہاں دوسرا پردہ بھی تو ہوسکتا ہے، کم سے کم پر وہ بھی تو کوئی چیز ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دل کو ٹول کے دیکھیں تو ان کو محسوس ہوگا کہ یہ سارے نفس نے بہانے بنائے تھے اور سجا کر ایک بات کو دکھایا تھا جو حقیقت میں ایک بد زیب بات تھی۔عملا وہ برقع سے نہیں پردہ سے بھاگنا چاہتی تھی اور شرم محسوس کرتی تھی ان گلیوں میں برقع پہن کر کہ کوئی دیکھنے والا کیا کہے گا کہ دقیانوسی عورت کہاں سے آگئی ہے۔عورتیں آزاد پھر رہی ہیں ناچ رہی ہیں اور ہر قسم کی دنیا کی لذتیں حاصل کر رہی ہیں۔ٹی وی پر دیکھو تو تب کیا اور گلیوں میں جا کر دیکھو تو تب کیا بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسی دنیا میں رہنا اور یہیں مرجانا ہے اور یہی کچھ مدعا ہے انسانی تخلیق کا۔ان باتوں پر جب وہ نظر ڈالتی ہیں اور پھر برقع پہن کر باہر جاتے ہوئے دیکھتی ہیں اپنے آپ کو، لوگوں کی نظروں کو دیکھتی ہیں جو ان پر پڑتی ہیں تو شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔کہتی ہیں یہ کیا بات ہے ہم کیوں پرانی اور دقیانوسی محسوس ہوں ، کیوں نہ نسبتا ادنی پر دہ کی طرف لوٹ جائیں۔ایک یہ طبقہ ہے۔شروع میں بظاہر بدی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ شرمندگی کے نتیجہ میں یہ برقع اتارنے والی خواتین ہوتی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ قدم پہلا قدم تو ہوتا ہے آخری قدم نہیں ہوتا اور رفتہ رفتہ تہذیبی اثرات ان پر غالب آنے لگ جاتے ہیں جب ایک دفعہ سر جھکا دیا ایک تہذیب کے سامنے تو وہ سر پھر جھکتا ہی چلا جاتا ہے۔کچھ دوسری خواتین ایسی ہیں جن کا نفس بہانے ڈھونڈتا ہے اور وہ یہ کہتی ہیں کہ برقع ثابت کرو کہاں سے آیا ہے قرآن کریم میں۔یہ تو برقع ہے ہی نہیں اور پھر کم سے کم پر دہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلامی اصول کی فلاسفی میں واضح فرما دیا ہے تو اس کے بعد ہم پر برقع ٹھونسنا زیادتی ہے۔یہ درست ہے کہ برقع جب بھی ایجاد ہوا تھا میں نہیں جانتا کس نے ایجاد کیا تھا، اس کے کچھ پہلو یقینا تکلیف دہ ہیں اور ہو سکتا ہے برقع کی بعض قسمیں اور عملاً ہوتا بھی ہے کہ برقع کی بعض قسمیں پرانی پابندیوں سے بہت بڑھ کر ہیں جو قرآن عورت پر عائد کرتا ہے لیکن جس نے بھی یہ