خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 615

خطبات طاہر جلد ۵ 615 خطبه جمعه ۱۹ ستمبر ۱۹۸۶ء پس آنحضرت ﷺ کے متعلق قرآن کریم نے جب فرمایا إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ تو ان تمام صفات حسنہ کا ذکر فرما دیا جو انسان میں جمع ہوسکتی ہیں جس کے چند نمونے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر فرمائی محض ان اخلاق کا ، ان صفات حسنہ کا آنحضرت عمل کو جمع قرار نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ اخلاق اپنے اپنے محل پر حضرت رسول کریم ﷺ کو عطا کئے گئے۔ایک بزرگ خلق پر قائم ہے، یہ ایک ایسا عظیم الشان ترجمہ ہے کہ اس ترجمہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلطان القلم بنارہا تھا یا کس طرح آپ کو سلطان القلم اس نے بنایا تھا۔آپ ترجمے اٹھا کر دیکھ لیں جہاں جہاں بھی خلق عظیم کا ترجمہ آئے گا وہاں لفظ بزرگ کی طرف کسی کا خیال نہیں جائے گا۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر اس محل اور موقع پر خلق عظیم کا ترجمہ ممکن نہیں۔تجھے بزرگ خلق پر قائم کیا گیا ہے۔بڑی عظمت ہے اس لفظ بزرگ میں ، بڑی گہرائی ہے اور عظیم کا اس سے بہتر اور ترجمہ ممکن نہیں۔پس آنحضرت ﷺ کو بزرگ خلق پر قائم فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہر خلق جو اپنی انتہا کو پہنچا ہے جو بلند مرتبے تک پہنچ چکا ہے، اس خلق پر آنحضرت ﷺ کو قائم فرمایا گیا اور خود حضور کے اپنے الفاظ انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق اسی بات کے مظہر ہیں کہ مجھے مبعوث فرمایا گیا کہ میں مکارم اخلاق کا اہتمام کروں ، ان کو انتہا تک پہنچاؤں۔مکارم اخلاق سے کیا مراد ہے؟ مکارم اخلاق سے مراد ہے وہ خلق جو عزت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہو۔معزز ترین اخلاق ، بزرگ ترین اخلاق، جو بزرگ ترین مقام تک دنیا کے لحاظ سے پہنچ چکے تھے اور آج تک کوئی دوسرا اس سے آگے ان کو نہیں بڑھا سکا تھا، میں انہیں بھی کامل کر کے دکھا دوں، انہیں نئی بلندیوں تک پہنچا کے دکھاؤں اور بتاؤں کہ کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا جو میر امنتظر تھا کہ محمد مصطفی ﷺ دنیا میں ظاہر ہوں اور اخلاق کو ان چوٹیوں سے اٹھائیں جن پر ان کو گزشتہ بزرگوں نے قائم کیا تھا اور نئے بلند تر مقامات تک ان کو پہنچا دیں۔یہ منصب ہے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کا اور ہم ایک ایسی قوم ہیں ایسی خوش نصیب قوم ہیں جو ایسے بلند صاحب اخلاق انسان کے غلام کہلانے کے مستحق ٹھہرے۔لیکن مستحق ٹھہرے یا نہیں یہ ایک الگ سوال ہے۔مستحق ٹھہر نا چاہئے