خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۵ 579 خطبه جمعه ۲۹ / اگست ۱۹۸۶ء ہے کہ جماعت احمدیہ نے دو سو مسجدیں بنالیں ہیں ایک سال کے اندر اندر۔اس لئے انتقام ان کا لینا ہے اس طریق پر کہ ان کی مسجد میں منہدم کرتے چلے جاؤ ، ان کی مسجد میں مسمار کر دیا ان سے چھین لو۔چنانچہ ہم پر طیش نہیں خدا کے فضلوں پر طیش کھا رہے ہیں۔ہم پر غصہ نہیں خدا کے رحمتوں پر غصہ ہے کیوں نازل کر رہا ہے خدا اپنے بعض بندوں پر رحمتیں۔اس کے نتیجہ میں ایک طبعی جوش ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے اور اپنی بد بختیوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔اس لئے اب معاملہ در حقیقت وہاں تک جا پہنچا ہے جہاں ہمارے لئے صبر اور انتظار کے سولا اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔جب ایک قوم خدا کے فضلوں پر طیش کھانے لگتی ہے۔خدا کی رحمتوں کے مقابل پر نکلتی ہے اور یہ چیلنج کرتی ہے خدا تعالیٰ کو کہ تو کون ہوتا ہے فضل کرنے والا ، ہم تیرے فضلوں کو نا کام اور نا مراد بنا کے دکھائیں گے تو ان کو مسجدیں عطا کرنے والا کون ہوتا ہے؟ ہم ان کی مسجد میں مسمار کر کے دکھائیں گے۔اب تو مقابلہ خدا اور ان بندوں کے درمیان ہے۔جو بندے کہلاتے ہیں مگر بندگی کے کوئی آداب ان کو میسر نہیں۔بندے کہلاتے ہیں خدا کے لیکن طاغوت کو مخاطب کر کے اللھم لبیک کہنے والے لوگ ہیں۔وہ سارے کردار وہی ہیں جو خدا کے دشمنوں کے ہمیشہ سے کردار چلے آرہے ہیں۔اس لئے اب ہمارا کام تو جس طرح پہلے بھی یہی تھا کہ صبر کریں۔اب اس سے بھی زیادہ میں آپ کو صبر کی تلقین کرتا ہوں کہ ہمارا کام صبر ہے اور دعا ہے اور خدا تعالیٰ پر اس معاملہ کو چھوڑ دینا ہے۔آنحضرت ﷺ کو بھی جب انتہا سے زیادہ دکھ دیئے گئے تو خدا نے آپ کو بھی یہی تلقین فرمائی تھی کہ اے محمد! عہ تو اس طرح صبر کر جس طرح تجھ سے پہلے اولوا العزم انبیاء صبر کیا کرتے تھے۔میں جب اس آیت کو پڑھتا ہوں تو مجھے ایک پہلو سے بڑا تعجب ہوتا ہے کہ آنحضرت علی تو سب اولوا العزم سے بڑھ کر اولوا العزم تھے ، آپ سے تو دوسرے انبیاء عزم کے گر سیکھتے تو تب بھی ان کے لئے زیبا یہی تھا۔ہر خلق میں ، ہر دوسرے نبی سے آپ اتنا آگے قدم بڑھا گئے تھے کہ آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتا یا زانوئے تلمذ تہ کرتا تو یہ اس نبی کے لئے عزت کا موجب تھا، اس کے لئے بے ادبی کا موجب نہیں تھا۔پھر آپ کو مخاطب کر کے یہ کیوں فرمایا گیا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف :۳۵) صبر