خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 578
خطبات طاہر جلد۵ 578 خطبه جمعه ۲۹/اگست ۱۹۸۶ء بھیانک اور گندا بنا دیتا ہے۔حماقت کی بھی حد ہونی چاہئے کوئی۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کسی بچی کے متعلق بتایا گیا کہ اس نے روزہ رکھا پہلی دفعہ۔اس کو روزے کے آداب کا پتہ نہیں تھا چنانچہ وہ چھپ کر کھانا کھا رہی تھی کسی دوسرے بچے نے اس کو دیکھ لیا تو بڑی ناراض ہوئی کہ تم نے دیکھ کر میرا روزہ توڑ دیا ہے۔وہ یہ بجھتی تھی کہ جو کھانا چھپ کر کھایا جائے روزہ کے دوران اس سے تو روزہ نہیں ٹوتا ، اگر کوئی دیکھ لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔حکومت پاکستان اور ان ملانوں کا اس وقت یہی حال ہے۔وہ کہتے ہیں جو چاہیں بدکرداری کریں ، جو چاہیں بھیانک مظالم کریں انسانیت پر، اگر باہر کے ملکوں کو نہ پتہ لگے تو کوئی جرم نہیں۔اگر با ہر خبر چلی گئی تو پھر یہ جرم بن جاتا ہے۔ہمیں کہتے ہیں کہ تم نے جرم بنا دیا ہے ہمارا، ہم تو اچھے بھلے معصوم بیٹھے تھے۔ملک کے اندر یہ حرکتیں کر رہے تھے۔تم نے ان کی خبریں باہر پہنچائیں اور ہمیں مجرم بنا کے دنیا کو دکھا دیا اس کی بھی ہم تمہیں سزا دیں گے۔چنانچہ اخباروں میں یہ خبریں چھپی ہوئی ہیں میرا نام لکھ کر کہ وہ چونکہ وہ باتیں باہر بتا رہا ہے جو تم ملک کے اندر کر رہے ہو۔اس لئے اسے بلایا جائے اور سر عام پھانسی دی جائے۔اتنا بڑا ملک دشمن ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اور جو کچھ ہمارے اخباروں میں چھپتا ہے ان کا ذکر باہر کر رہا ہے۔یہ ایک نیا دستور بن گیا ہے۔کوئی کل اس ملک کی اس وقت سیدھی نہیں رہی۔ان سب حالات کو دیکھ کر ایک احمدی کا دل دکھتا ہے، اس سے جو دعائیں نکلتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس کا ثمرہ بھی پارہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہورہے ہیں اور جماعت ہر روز ترقی کر رہی ہے، ہر رات ترقی کر رہی ہے۔ایک لمحہ بھی جماعت کا ایسا نہیں آتا جس میں جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل نازل نہ ہوئے ہوں۔اور جتنے فضل نازل ہوتے ہیں اتنی ہی زیادہ وہاں تکلیف بڑھتی چلی جارہی ہے۔چنانچہ در حقیقت مسجدوں پر حملے کی جو بھیانک سازش ہے۔وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں پر غیظ کھانے کی ایک مثال ہے۔گزشتہ جلسہ پر میں نے جماعت کو مطلع کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل۔اس ایک سال کے اندر دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کو دوسونئی مساجد بنانے کی توفیق ملی ہے اور اس خبر کو پاکستان کے اخباروں میں شہ سرخیوں کے ساتھ اس طرح شائع کیا گیا کہ ظلم کی حد ہے، اندھیر نگری