خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد۵ 509 خطبہ جمعہ ۱۸؍جولائی ۱۹۸۶ء نے موسی کو ان تمام الزامات سے بری فرما دیا جو اس پر لگائے جاتے تھے۔وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وجيها اور اللہ کے نزدیک و ہبہت صاحب مرتبت انسان تھا۔حضرت موسی“ پر جو الزام لگائے گئے ان کی تفصیل بائیبل میں ملتی ہے اور وہ کئی قسم کے گندے الزام تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان الزامات کو دوہرانے کی بجائے ایک ماضی کے شیشہ میں ان الزامات کی تصویر اتار دی جو حضوراکرم عے پر اس زمانہ میں لگائے جارہے تھے اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ ویسے نہ بن جانا جیسے موسی کی قوم تھی۔اب ان سب جگہوں میں عجیب بات ہے صاحب ایمان لوگ مخاطب ہیں اور مسلمان سوسائٹی کا ذکر ہو رہا ہے اور عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو نصیحت کی جارہی ہے کہ تم آنحضرت علی کی گستاخی سے باز رہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان سوسائٹی کے اندر ایسے منافق لوگ موجود تھے جن کے متعلق مسلمان سوسائٹی کو علم تھا کہ یہ بد خلق لوگ ہیں، بدتمیز لوگ ہیں اور ان کے ایمان کھو کھلے ہیں اور اس قدر بے حیا ہیں کہ دنیا کے سب سے زیادہ مقدس وجود پر الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے۔ان سب باتوں کا ذکر ہے لیکن ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کا قتل و غارت شروع کر دو، ان کو تباہ کر دو ، ان کے گھر لوٹ لو، ان کے اموال چھین لو ، ان کو زندہ رہنے کا حق نہ دو کیونکہ حضرت رسول اکرم ﷺ کی خاطر تو کائنات بنائی گئی ان لوگوں کا کیا حق ہے کہ آنحضرت ﷺ پر طعن کریں اور آپ کو کسی قسم کا دکھ پہنچا ئیں۔ان سب کے علاوہ ایک عجیب ذکر قرآن کریم میں یہ بھی ملتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایک غزوہ سے لوٹتے ہوئے ایک بد بخت انسان نے دنیا کا سب سے ذلیل انسان کہا۔اتنا شدید لفظ ہے کہ اس سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے کے لئے بے عزتی اور گستاخی کا کوئی تصور ممکن ہی نہیں۔قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ الْاَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المنافقون: ۹) یعنی وہ یہ کہتے ہیں لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں