خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 508
خطبات طاہر جلد۵ 508 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء وَمِنْهُمْ مَّنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقْتِ فَإِنْ أَعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَاهُمْ يَسْخَطُونَ۔(التوبہ:۵۸) ایک اور گروہ کا ذکر فرمایا کوئی طریق ایسا نہیں تھا جو دکھ دینے کا ہو اور آنحضرت ﷺ کے خلاف استعمال نہ کیا گیا ہو۔ایک الزام آپ پر یہ لگاتے تھے کہ یہ نعوذ باللہ من ذلک صدقات کھا جاتا ہے یا اپنوں کو دے دیتا ہے اور جن سے تعلق نہ ہو ان کو نہیں دیتا، انصاف سے تقسیم نہیں کرتا۔حیرت انگیز بات ہے آنحضرت علہ تو نبوت کے دعوئی سے پہلے بھی عرب میں امین کہلاتے تھے، گندے سے گندا دشمن بھی انگلی نہیں رکھ سکتا کہ ایک موہوم سا واقعہ بھی ایسا گزرا ہو جس پر آنحضرت ﷺ کی امانت پر الزام لگایا جاسکے اور یہ بد بخت دعوی نبوت کے بعد جبکہ امین کو اپنی امانت میں اور زیادہ محتاط ہونا پڑتا ہے پھر یہ الزام لگانے سے نہیں چوکتے تھے کہ نعوذ باللہ من ذلک اموال کی تقسیم میں امین نہیں ہیں ، خیانت کرنے والے ہیں۔فرمایا ان کا تو یہ حال ہے یہ کمینے لوگ ہیں جب ان کو کچھ پل جاتا ہے تو راضی ہو جاتے ہیں اور جب نہیں ملتا تو ناراض ہو جاتے ہیں ان سے کیا معاملہ کرنا ہے اس دنیا میں اور یہ کہہ کر اس مضمون کو چھوڑ دیا گیا۔خدا جو سلوک فرمائے گا وہ فرمائے گا۔جہاں تک مومنوں کا تعلق ہے ان کی تسلی کے لئے یہی ان کی خصلت کا اظہار کافی سمجھا گیا کہ خدا فرماتا ہے کمینے لوگ ہیں، گھٹیا لوگ ہیں۔جب ان کو ملتا ہے تو راضی ہو جاتے ہیں ، جب نہیں ملتا تو ناراض ہو جاتے ہیں۔نہ ان کی ناراضگی کے کچھ معنی ہیں نہ ان کی رضا کے کچھ معنی ہیں۔پھر کچھ اور قسم کے بھی الزام لگاتے تھے جن کا بڑی لطافت سے ذکر فر مایا گیا ہے۔آنحضرت کی مقدس ذات کے متعلق وہ الزام دوہرائے نہیں گئے لیکن ایک ماضی کے شیشہ میں ان کی Reflection دکھائی گئی ہے۔یہ بھی قرآن کی فصاحت و بلاغت کا ایک کمال ہے فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ أَذَوْا مُوسَى فَبَرَّاهُ الله مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيْمان (الاحزاب : ۷۰) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ أَذَوْا مُوسَى ہرگز ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے موسی کو تکلیفیں دی تھیں۔فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا اللہ تعالیٰ