خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد۵ 485 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء عمر میں وفات پاگئی ہیں۔میرا خیال ہے کہ اسی سے کچھ اوپر ہوں گی۔وقف جدید میں جب میں تھا میرے پاس علاج کے لئے بھی آیا کرتی تھیں، معمر خاتون۔لیکن ان کے خلوص کی جو خاص ادا مجھے بہت اچھی لگی جس کی وجہ سے میں خاص طور پر ان کے لئے تحریک کر رہا ہوں یہ آزاد کشمیر میں تھیں بہت شدید بیمار ہو گئیں اور بظاہر بچنے کی کوئی امید نہیں تھی آخری عمر تھی تو ان کے بیٹے نے ان سے کہا کہ آپ مجھے اجازت دیں تو وقف جدید سے میں چھٹی لے لیتا ہوں کیونکہ والدہ کی خدمت کا حق ادا کرنا فرض ہے اور وہ شوق سے مجھے رخصت بھی دے دیں گے تو ان کی والدہ بیماری کی حالت میں اٹھ کے بیٹھ گئیں انہوں نے کہا بیٹا ! اگر تم دنیا کے نوکر ہوتے اور جو مرضی کما رہے ہوتے تو میں تمہیں کبھی اپنے سے الگ نہ ہونے دیتی لیکن تم خدا کے نوکر ہو اور میں ایک لمحہ کے لئے بھی پسند نہیں کرتی کہ خدا کی نوکری چھوڑ کر تم میری نوکری شروع کر دو آ کے۔اس کے بعد پھر ان کو خدا نے شفا بھی عطا فر مادی پھر ربوہ بھی آگئیں اور ان کے بیٹے کی اس قربانی کو اصل میں تو ان کا اخلاص ہی تھا جس نے پھر اس کو بھی ہمت دی، اس نے درخواست ہی نہیں دی پھر۔تو خدا نے اس کو قبول فرمایا اور لمبی عمر انہوں نے پائی۔تو ان سب کی نماز جنازہ غائب انشاء اللہ جمعہ کے معا بعد ہوگی۔