خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد۵ 484 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء وہ بھی مالی قربانی کرنے والوں کی صف میں ایک باقاعدہ مستقل حصہ بن جائیں۔جو ایسا کریں گے تو نئے شامل ہونے والوں کی مالی قربانیوں میں خدا ان کو بھی حصہ دار بنادے گا۔ایک غریب سیکرٹری مال اگر سو چندہ دہندہ پیدا کرتا ہے تو حضرت اقدس محمد مصطفی حملے کے ارشاد کے مطابق جتنے وہ نیکی کرنے والے پیدا کرتا چلا جاتا ہے ان کی نیکیوں کا ثواب اس کو بھی ملتا چلا جاتا ہے اور نیکی کرنے والوں کے ثواب میں خدا کوئی کمی نہیں کرتا یعنی ان کا حصہ لے کر ان کو نہیں دیتا بلکہ مزید عطا کرتا ہے۔تو مالی قربانی پیدا کرنے والے لوگ بھی ایک لا محدودترقیات کا میدان اپنے سامنے کھلا پاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اور خدا کے بچے شکر گزار بندے بنتے ہوئے شکر کے حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم خدا تعالیٰ کے مزید لا متناہی فضلوں کا وارث بنتے چلے جائیں۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: قادیان سے ناظر صاحب اعلیٰ نے یہ درخواست بھجوائی ہے کہ وہاں کے ایک مخلص جو شیلے در ولیش مرز امحمود احمد صاحب ایک لمبے عرصے کی بیماری کے بعد وفات پاگئے ہیں۔جو قافلے وہاں جایا کرتے تھے ان کو خوب یاد ہوگا وہاں سب سے زیادہ جوش کے ساتھ قافلوں کا استقبال کرنے والے اور نعرہ لگانے والے ایک مرزا محمود صاحب ہوا کرتے تھے۔تو ان کے متعلق خاص طور پر نماز جنازہ غائب کی درخواست کی گئی ہے اور دعا کی درخواست کی ہے۔ان کے علاوہ کچھ موصیان یا غیر موصیان جو وفات پاگئے ہیں ان کے بچوں نے ان کی جنازہ غائب کی درخواست کی ہے ایک مکرم چوہدری رحمت اللہ صاحب ولد چوہدری عنایت اللہ صاحب گھنو کے حجہ ضلع سیالکوٹ۔ایک ہیں مکرمہ مہراں بی بی صاحبہ اہلیہ عمر الدین صاحب مرحوم مرحومه موصیبہ تھیں گوجرہ کی رہنے والی تھیں۔ایک سید حامد مقبول صاحب ویسٹ جرمنی سے اطلاع دیتے ہیں کہ ان کی والدہ سید مقبول احمد صاحب کی اہلیہ وفات پاگئی ہیں۔مکرم محمد الدین صاحب ناز پروفیسر جامعہ احمدیہ لکھتے ہیں کہ ان کے والد صاحب جو خاص سلسلہ کے فدائی اور عاشق تھے وہ بھی وفات پاگئے ہیں۔نور بی بی صاحبہ اہلیہ چوہدری رحمت اللہ صاحب چک ۷۲۵ آر۔بی کرتار پور ضلع فیصل آباد وفات پاگئی ہیں۔ان کے علاوہ ہمارے ایک معلم وقف جدید ہیں محمد حسین صاحب ان کی والدہ بھی کافی بڑی