خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد۵ 43 خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۸۶ء پیدا ہوئیں اور خود بخود جاری ہوتی تھیں اور خود بخود جاری رہیں گی اور کسی تیسری بیرونی ہستی کے وجود کی ضرورت کوئی نہیں۔اس وہمے کو مٹانے کی خاطر خدا ایک ایسی تقدیر بھی دکھاتا رہتا ہے جو وقتاً فوقتاً جلوہ گر ہوتی ہے اور وہ عام تقدیر سے ہٹ کر ہوتی ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ عمومی تقدیر کے برخلا ف اُس پر غالب آنے والی اپنی دوسری تقدیر کو جاری فرمائے۔فرماتے ہیں: " اُس خدا پر ایمان لانے سے کیا مزہ جو قریب قریب بتوں کے ہو ( یعنی بتوں کی طرح کا ہو ) نہ سنتا ہواور نہ جواب دے۔اُس خدا پر ایمان لانے سے مزہ آتا ہے جو قدرتوں والا خدا ہے جوایسے خدا پر ایمان نہیں لاتا اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور تصرفات پر ایمان نہیں رکھتا اُس کا خداہت ہے۔اصل میں خدا تو ایک ہی ہے مگر تجلیات الگ ہیں جو اس بات کا پابند ہے اس سے ایسا ہی سلوک ہوتا ہے اور جو متوکل ہے اُس سے وہی۔اگر خدا تعالیٰ ایسا ہی کمزور ہوتا تو پھر نبیوں سے بڑھ کر کوئی نا کام نہ ہوتا کیونکہ وہ اسباب پرست نہ تھے بلکہ خدا پرست اور متوکل تھے۔‘( ملفوظات جلد دوم صفحہ: ۳۹۹) یہاں جو مضمون ہے وہ قدیر اور قادر کے تعلق کا مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔جب ہم اسباب اختیار کرتے ہیں تو یہ وہی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی ایک جاری تقدیر ہے۔اس کے سوا تو اسباب کوئی چیز نہیں ہیں۔لیکن جب صرف اسباب ہی اختیار کرنے لگ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی دوسری تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے جو وقتاً فوقتاً اُس سے تعلق کی بناء پر یعنی مذہب کے نتیجے میں جاری ہوتی ہے جس کا تعلق قادر سے ہے تو پھر صرف اسباب ہی کے بندے ہوکر رہ جاتے ہیں۔فرمایا اُن کے لئے بھی ایک خدا ظاہر ہوتا ہے اُن سے تعلق نہیں توڑتا لیکن جو وہ اپنے لئے پسند کرتے ہیں ویسا ہی خدا اُن کے لئے ظاہر ہوتا ہے۔وہ چونکہ اس کی اسباب کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں تو صرف اسباب کی تقدیر تک محدود خدا اُن کے لئے ظاہر ہوتارہتا ہے۔یہ مغربی قوموں نے جتنی بھی دنیا میں ترقی کی ہے یہ اسباب کے ذریعہ کی ہے اور اسباب کے خدا سے تعلق قائم کر کے کی ہے، خدا سے ہٹ کر یہ نہیں ترقی کر سکتے لیکن اُن کے لئے صرف اسباب کی تقدیر محدود ہو چکی ہے۔فرمایا اگر صرف یہی تقدیر ہوتی تو انبیاء تو جیتے جی مر جاتے کیونکہ اُن کے پاس تو اسباب ہوتے ہی