خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد ۵ 42 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف جگہ بہت ہی لطیف تفاسیر پیش فرماتے ہیں لیکن پہلے میں اس کے مقتدر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بعض تفاسیر کے نمونے پیش کروں، جہاں جہاں آپ نے لفظ قادر کا استعمال کیا ہے اور بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اس کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں: یاد رکھو! اللہ تعالیٰ بے شک قادر ہے مگر وہ اپنے تقدس اور اُن صفات کے خلاف نہیں کرتا جو قدیم سے الہامی کتب میں بیان کی جارہی ہیں گویا اُن کے خلاف اُس کی توجہ ہوتی ہی نہیں“ (ملفوظات جلد ۵ صفحه: ۲۰۵) یہ جو قدیر کے الہامی کتابوں میں باتیں بیان کی جارہی ہیں فرمایا اُن کے خلاف وہ نہیں کرتا کیونکہ اُن کی طرف اُس کی توجہ ہوتی ہی نہیں اس مضمون کو چونکہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس لئے اس کے کچھ حصے چھوڑا رہا ہوں۔فرماتے ہیں: ”ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے۔وہ کامل اختیارات رکھتا ہے یمحوا لله ما يشاء جس چیز کو چاہتا ہے اُسے مٹا بھی دیتا ہے ہمارا ایمان ہے وہ جوتشی کی طرح نہیں وہ ایک حکم صبح کو دیتا ہے اور رات کو اُس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے ماننسخ من اية(البقرہ:۱۰۷) والی آیت اس پر گواہ ہے“ (ملفوظات جلد ۵ صفحه : ۶۳۰) پس قادر صفت کا قدیر سے جو تعلق ہے اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اب یہاں کھولا ہے کہ جاری تقدیر ہے ایک۔وہ بھی خدا کی جاری کی ہوئی تقدیر ہے مگر وہ ایسی نہیں جو خدا کو عاجز کر دے کہ اُسے بدل نہ سکے اپنے وجود کو دکھانے کے لئے۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے ( در متین صفحه: ۱۵۸) اگر وہ خدا یہ غیر معمولی تقدیر جاری کرنا چھوڑ دے تو لوگ یہی کہیں گے کہ خود بخود چیزیں