خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 482

خطبات طاہر جلد ۵ 482 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء ایک دفعہ مجھے یاد ہے انصار اللہ کے دورے پر کراچی گیا تو کراچی کی جماعت تو بڑی منظم اور بڑی خدا کے فضل سے سائنٹفک بنیادوں پر یعنی سائنسی طریق پر مربوط کام کرنے والی جماعت ہے ان کی تجنید کا معیار بھی اسی لحاظ سے بہت اونچا ہے۔تو میں نے جب انصار اللہ کی تعداد دیکھی تجنید کی تو میں نے ان سے کہا یہ تو ہے نہیں پوری ہو ہی نہیں سکتا بہت سے انصار ہیں آپ کے جو آپ کی نظر سے اوجھل پڑے ہوئے ہیں آپ نے شمار ہی نہیں کئے۔انہوں نے کہا جی یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ کو کیا پتہ ہم یہاں کام کرتے ہیں، کراچی میں تو ایک گوشہ ایسا نہیں ہے جو کارکنوں کی آنکھ سے الگ رہ جائے سب پورے کے پورے گنتی میں ہیں بتائیں کس طرح کوئی رہ سکتا ہے الگ۔میں نے کہا آپ کی بات بھی درست ہوگی مگر میری بھی درست ہی ہے، آپ کوشش کریں محنت کر کے دیکھیں تو آپ کو آدمی مل جائیں گے۔تو پہلی رپورٹ جو تھی ایک محلے کی جن کے متعلق میں بات کر رہا تھا اس کے مطابق ۴۲ کی بجائے ۶۲ ہو گئے تھے یعنی پچاس فیصدی سے زائد ان کے آدمی چھپے ہوئے تھے یا پچاس فیصد کے قریب ان کے آدمی چھپے ہوئے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ یہاں کوئی ایک بھی گوشہ ایسا نہیں ہے جو نظر سے باہر رہ گیا ہو اور بعد میں جو رپورٹیں آئیں اس میں تو بعض جگہ سو فیصدی قریباً اضافہ ہوا بعض جگہ بہت کم بھی ہوا لیکن ایسے گوشے رہ جاتے ہیں جو ان کارکنوں کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔اموال کی قربانی کے نظام میں میں نے یہ بڑا تفصیلی تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ جہاں تک کارکنوں کی محنت کا تعلق ہے اس کا بڑا گہر اواسطہ ہے اس نظام کی کامیابی سے اور تنظیم کا اعلیٰ ہونا یہ بھی ایک بہت اہم ایسا Factor ہے ایک اہم چیز جو اس میں کردار ادا کرتی ہے۔چنانچہ تنظیمی لحاظ سے ہمحنت کے لحاظ سے، رسل و رسائل کے لحاظ سے اگر اس نظام کو بہتر کیا جائے تو جو آج ہمارا بجٹ ہے اس میں قربانی کرنے والے جتنے شامل ہیں اگر وہ اپنی قربانی کے معیار میں ایک رتی بھی اضافہ نہ کریں تو جماعت کا مجموعی بجٹ خدا کے فضل سے اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ یہاں جو مثال دی ہے خدا تعالیٰ نے اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ آج کے بیج نے اگر تمہیں اتنا پھل دیا ہے تو کل کا بیج تمہاری ضرورتوں سے بہت زیادہ ہوگا کیونکہ یہی پھل تمہارا پیج بھی بننے والا ہے کل کا۔اس لئے تمہاری استطاعت بڑھتی چلی جائے گی قربانیوں کی۔پس ہر سال جب جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے زیادہ چندہ دیتی ہے تو ہر پہلو