خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۵ 478 خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۸۶ء پس الحمد للہ کہ خدا کی رحمت اور فضلوں کا یہ سلوک جو ہمیشہ سے جاری ہے آج بھی جاری ہے اور اگر آپ اپنے معاملات کو خدا کے ساتھ تبدیل نہیں کریں گے تو کل بھی جاری رہے گا اور یہی وہ آخری بات ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔چند عرصہ پہلے ایک جمعہ میں میں نے یہ ایک اعلان کیا تھا کہ جماعت کے انفاق فی سبیل اللہ کو ان لوگوں کے تقویٰ سے ایک براہ راست نسبت ہے جو ان اموال کے بطور امین خرچ کرتے ہیں۔اگر ان اموال کو جو خدا کی خاطر قربانی کرنے والے محض اللہ سلسلہ کے حضور پیش کر رہے ہوتے ہیں، خرچ کرنے والے اللہ کے تقویٰ کے ساتھ خرچ کریں اور ان کی امانت کا حق ادا کریں تو کئی طرح سے جماعت میں بے شمار بڑھتی چلے جانے والی برکتیں عطا ہوں گی۔میری اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ امید ہے کہ جو تقویٰ سے خرچ کرنے والے ہیں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ ایسا ہی سلوک فرمائے گا جیسے انہوں نے مال اپنی جیب سے نکال کر دیا ہو۔ان کے گھر بھی برکت سے بھرے گا، ان کے اموال میں بھی برکت دے گا، ان کے نفوس میں بھی برکت دے گا اور ان کے ساتھ ثواب کے معاملہ میں بھی ویسا ہی سلوک فرمائے گا کہ گویا انہوں نے خود یہ مالی قربانی کی تھی اور اس کے نتیجہ میں وہ اموال جہاں خرچ کئے جائیں گے ان اخراجات میں بے شمار برکت ہوگی اس کے نتائج بہت زیادہ شاندار نکلیں گے۔خرچ کرتے وقت اگر بد دیانتی کی ملونی ہو جائے تو وہ خرچ برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے اور ایسے لوگ بڑے ہی بدنصیب ہوتے ہیں جو پاک اموال کو برکتوں سے محروم کر رہے ہوں۔قربانی کرنے والا جب خدا کی خاطر اپنے حلال رزق میں سے کچھ پیش کرتا ہے تو ایک پاک مال ہے جو اس نے خدا کے حضور پیش کیا اور وہ مال اس بات کا حق دار ہے کہ اسے بکثرت برکت عطا ہو جیسا کہ اس آیت میں وعدہ کیا گیا ہے۔لیکن اگر کاشت کار دیانت داری سے کاشت کاری نہیں کرتا۔بجائے محنت کر کے زمین میں بیج کو دبانے کے اوپر پھینک کر واپس آ جاتا ہے اس کے نفس میں کچھ بد دیانتی کی ملونی ہو خواہ وہ اپنے کام کے لئے ہو یامالک کے کام کے لئے ہو تو اس پیج پر یہ مثال صادق نہیں آئے گی جو قرآن کریم نے پیش کی ہے۔تو یہی میرا مطلب ہے کہ خرچ کرنے والا اگر دیانت داری کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور تقویٰ سے خرچ کرے گا تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالی اخراجات میں غیر معمولی برکت عطا فرمائے گا