خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 469
خطبات طاہر جلد۵ 469 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء اور ہیں۔ان کی بیگم آپا آمنہ کرامت اللہ یہاں اپنی بیٹی کے پاس تشریف لائی ہوئی تھیں۔چند دن پہلے مجھے ملنے آئیں تھیں۔ویسے دل کی تکلیف تو تھی مگر بڑی اچھی صحت تھی دیکھنے میں بظاہر، پہلے کی نسبت بہتر تھیں اور بڑا خوشی کے ماحول میں ہنس ہنس کر باتیں کر کے گئیں۔اچانک چند دن بعد اطلاع ملی کہ آپ کا ہارٹ فیل ہو گیا ہے۔بہت ہی مخلص، فدائی پیار کرنے والی ،سلسلہ کے کاموں میں پیش پیش۔لجنہ اماءاللہ کراچی میں بڑی محبت سے ، بڑے استقلال سے انہوں نے خدمت کی ہے۔خاص طور پر یہ دعاؤں کی محتاج ہیں۔ان کا خاندان بھی دعاؤں کا محتاج ہے کیونکہ اولا داکثر دنیا میں پھیل گئی ہے رپھیلنے کی برکتیں بھی ہوتی ہیں اور پھیلنے کے خطرات بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ انسان اپنی غالب تحریک کو لے جا کر معاشرے کو بڑی برکتیں بخشتا ہے اور بعض دفعہ کسی دوسری تحریک سے متاثر ہو کر ان کی بے برکتیاں حاصل کر لیتا ہے۔تو مخلص خاندانوں کے افراد کے جب جنازے پڑھے جائیں تو اس میں چونکہ نماز جنازہ میں آنحضرت ﷺ نے پیچھے رہنے والوں کے لئے دعا سکھائی ہے اس لئے یا درکھا کریں۔پیچھے رہنے والوں کے لئے بھی صرف جانے والوں کے لئے نہیں۔لا تحرم علينا اجره، اجرها یا اجرھم کی دعا اسی لئے بتائی گئی ہے کہ ہمیں ان کے اجر سے، ان سے جدا ہونے کے بعد محروم نہ رکھنا۔ان کی نیکیاں، ان کی دعاؤں کی برکتیں جو زندگی میں ملا کرتی تھیں، تھا تو ان کا اجر لیکن عطا ہمیں بھی ہوتا تھا اب ان کے بعد ہمیں اس سے محروم نہ رکھنا اور اسی طرح حفاظت اور رحم کا سلوک رکھنا جس طرح ان کی زندگی میں ان کی دعاؤں اور نیکیوں کی برکت سے رکھتا تھا۔تو اس دعا میں ان کے بچوں کو بھی اور دوسرے جو جنازے پڑھائے جائیں گے ان کے اہل وعیال کو بھی یاد رکھیں اور اس میں باقی سب چھ جنازے دوسرے ہیں، یہ غائب جنازے ہیں۔اس حاضر جنازے کے ساتھ شامل کر لئے جائیں۔مکرم میاں محمد یوسف صاحب والد ماجد بشیر احمد صاحب صدر جماعت ہائیڈل برگ یہ یہاں پر بھی تشریف لائے تھے پیچھے اور وہاں اپنے بیٹے کے پاس آئے ہوئے تھے۔اچانک بہت زیادہ طبیعت خراب ہوگئی اور بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔امتہ الکئی صاحبہ اہلیہ مکرم حافظ محمد عمر صاحب آف ڈیرہ غازی خان۔ان کے متعلق بھی امیر جماعت نے بہت سفارشی خط لکھا ہے کہ بہت نیک خاتون اور فدائی تھیں سلسلہ کی اسی طرح باقی سب بھی جو آنے والے ہیں سبھی کسی نہ کسی رنگ میں