خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد۵ 454 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء کے رستوں کی طرف بلائیں گے اتنا ہی شدت کے ساتھ ان رستوں سے روکنے والے بھی پیدا ضرور ہوں گے۔اس لئے قدرت کے حصے کے طور پر انہیں آپ کو قبول کرنا ہوگا۔لیکن یہ رستے سے روکتے وقت Foul بھی کھیلتے ہیں یعنی ایک تو رستے سے روکنا یہ ہے کہ آپ بلا رہے ہیں کہ ادھر آؤ خدا کی طرف اور یہ پاس بیٹھے آوازیں دے رہے ہیں بالکل نہیں جانا یہ خدا کا رستہ نہیں ہے یہ شیطان کا رستہ ہے، یہ فلاں رستہ ہے، یہ فلاں رستہ ہے۔آوازیں دیتے رہیں جتنا مرضی قافلے تو چلتے رہیں گے۔وہ تو رک نہیں سکتے لیکن بعض دفعہ پھر یہ بیچ میں روکیں ڈالتے ہیں۔بعض دفعہ پتھراؤ کی کوشش کرتے ہیں ، بعض دفعہ رستہ چلنے والوں پر حملہ بھی کرتے ہیں اور کھلم کھلا یہ اعلان کرتے ہیں کہ جس طرح بھی ہماری پیش گئی جو بھی ہمارے بس میں ہوا ہم نے ہر طرح سے جماعت احمدیہ کو جانی مالی عزت کا ہر قسم کا نقصان ضرور پہچانا ہے۔انہی کی وجہ سے دراصل بعض لوگوں سے اخلاق کے اعلیٰ تقاضے پورا کرنے میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔اگر یہ طبقہ نہ ہو دنیا میں تو جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے سو بسم اللہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں جتنے آئیں شوق سے آئیں سر آنکھوں پر آئیں کوئی کسی سے کچھ نہ پوچھے۔لیکن ان کے جلائے ستائے ہوئے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ فیصلہ کر کے آتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو جماعت کے جلسے کو نقصان پہنچایا جائے اور وہ کئی قسم کے بھیس بدل کر آتے ہیں اور ابھی سے انہوں نے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔چنانچہ ہماری اطلاعات کے مطابق بعض مساجد اس کام کے لئے وقف ہو چکی ہیں کہ وہاں نہایت ہی گندے اور جھوٹے الزامات لگا کے ناواقف لوگوں کو طیش دلائیں اور اتنا انگیخت کریں کہ وہ سر دھڑ کی بازی لگا بیٹھیں اور وہ سمجھیں کہ ایک آدمی کا قتل یا دس احمدیوں کو نقصان پہچانا ان کے لئے ساری عمر کی نیکیوں سے زیادہ بہتر ہے۔اب آپ کو علم ہی ہے کہ آج کل نیکیوں کا معیار کتنا گر چکا ہے۔عام طور پر جو آپ کو مسلمان کہلانے والے نظر آتے ہیں ان میں الا ماشاء اللہ مغرب کی ساری بدیاں جو یہاں بسنے والے ہیں ان میں داخل ہو چکی ہیں اور ہر قسم کے عیوب سے ان کی اسلامی صورت داغدار ہے۔اس کے باوجود بلکہ شاید اسی وجہ سے اسی احساس کے پیش نظر جب ان کو جنت کا آسان رستہ دکھایا جاتا ہے۔ان کو کہا جاتا ہے اگر تم ساری عمر بے شک شرا میں پیو، جو مرضی ہے کھاؤ ، جس طرح مرضی زندگی بسر کرو کوئی فرق نہیں پڑتا اگر تم ایک احمدی کو مار دو گے تو نہ صرف یہ کہ سیدھا جنت میں جاؤ گے بلکہ بڑی بڑی بزرگ ہستیاں