خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد۵ 453 خطبہ جمعہ ۲۷ /جون ۱۹۸۶ء بعض غیر احمدی دوستوں کے خط آئے کہ ہمیں فلاں شخص نے دعوت دی تھی ہم بڑے شوق سے آئے لیکن وہاں جس طرح سختی کے ساتھ ہماری جانچ پڑتال کی گئی ، ہماری تلاشیاں لی گئیں ، ہمیں ہر قسم کی بدظنیوں کا نشانہ بنایا گیا۔اس سے اتنی طبیعت میں کوفت پیدا ہوئی اور ہم بغیر جلسہ سننے کے واپس چلے گئے۔میں نے تحقیق کی تو ایک دو آدمی ایسے تھے واقعہ جن سے اچھا سلوک نہیں ہوا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔لیکن بالعموم کچھ کوفت ہوئی، کچھ اس کے بعد سمجھ گئے دونوں فریق۔پھر ایک دوسرے سے صلح بھی ہو گئی۔پھر بڑی محبت کے ماحول میں ان لوگوں نے جلسے بھی سنے۔مگر یہ موقع نہیں پیدا ہونا چاہئے۔اصولاً یہ بات غلط ہے کہ آپ کسی کو دعوت دے بیٹھیں اور انتظامیہ سے اس کے لئے جو مناسب سہولتیں ہیں وہ پہلے حاصل نہ کی ہوں اور ان کو بے یار و مددگار وہاں چھوڑ دیں اپنے حال پر۔یہ آپ کے لئے بھی درست نہیں ، اس مہمان کے لئے بھی درست نہیں اور نظام جماعت کے لئے دو طرح سے نقصان دہ ہے۔ایک یہ کہ اگر کوئی مخلص دوست آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ سلسلہ کے اور قریب آئیں وہ ٹھو کر کھا کر بہت دور بھی جا سکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر نرمی کرے جماعت تو پھر بعض فتنہ پردازوں کے لئے شرارت کے رستے کھل جاتے ہیں اور دونوں طرح سے نقصان کا موجب بنتی ہے بات۔اس لئے اس بارے میں بھی نظام جماعت کو بھی چاہئے جو بھی جلسے کا نظام ہے انگلستان کی جماعت کے سب دوستوں کو خوب اچھی طرح مطلع کر دیں کہ طریق کار کیا ہوگا تا کہ بغیر کسی دقت کے بغیر کسی خطرے یا نقصان کے ایسے مہمان ہمارے عزت اور شرف کے ساتھ بٹھائے جائیں۔ان کے ساتھ محبت اور حسن کا سلوک ہوا اور وہ دل برداشتہ ہونے کی بجائے گرویدہ ہوکر یہاں سے واپس جائیں۔جلسے کے دنوں میں یہاں کچھ ایک اور قسم کے سیاح بھی آتے ہیں۔وہ ایسے سیاح ہیں کہ ان کو بھی خاص سیر و سیاحت سے نہ کوئی شغف ہے نہ اس کا سلیقہ اور مذاق رکھتے ہیں اور وہ تعاقب کے نام پر یہاں آنے والے ہیں۔جہاں جہاں جماعت احمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ ترقی کے رستے کھولتا ہے وہاں وہاں یہ دوسرے طبقے کے لوگ بھی کشاں کشاں ضرور پہنچتے ہیں۔ایک رستوں کو بلانے والے ہیں ایک رستوں سے روکنے والے ہیں۔یہ دونوں نظام کائنات کا ایک جزو ہیں اور مذہبی کائنات کا تو ایک لازمی جزو ہیں۔جتنا آپ دعوت الی اللہ کو تیز کرتے چلے جائیں گے، جتنا آپ خدا