خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد۵ 450 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء باہر کام کرنے والے بچوں یا عزیزوں کو ایسے خط لکھے جن کے نتیجے میں ان کی بے قراری باہر بسنے والے عزیزوں کے دلوں کی بے قراری بن گئی اور انہوں نے اپنے پیٹ کاٹ کے اپنی ضرورتوں سے بچت کر کے ان کو ٹکٹ بھیجوائے۔یہ خدا کے مہمان جو کبھی اسی ذوق شوق سے بلکہ بہت زیادہ ذوق شوق سے بہت زیادہ تعداد میں کثرت سے دنیا کے کونے کونے سے ربوہ میں جایا کرتے تھے یا اس سے پہلے قادیان جایا کرتے تھے چونکہ احمدیت کا مرکز یعنی حقیقی مرکز خلافت احمد یہ ہے اس لئے باوجود اس کے کہ U۔K کا یہ جلسہ مرکزی جلسہ نہیں ہو سکتا نہ وہ کہلاتا ہے پھر بھی خلیفہ وقت کی موجودگی کی وجہ سے یہ سب لوگ اس جلسہ میں بڑے ذوق وشوق کے ساتھ حاضر ہونے والے ہیں۔اس لئے میرا فرض ہے کہ انگلستان کی جماعت کو جو پہلے ہی خدا کے فضل سے نہایت ہی مخلص اور دین کے کاموں میں خدمت میں پیش پیش ہے ان کو پھر بھی کچھ ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرَى الاعلیٰ : ۱۰) نصیحت کرنے سے تھکنا نہیں نصیحت کرتے چلے جاؤ کیونکہ نصیحت ضرور فائدہ دیتی ہے۔ذکری کا مطلب ہے یاد دہانی۔پس وہ لوگ جو اچھی نیتیں بھی رکھتے ہوں بسا اوقات بعض کام کے پہلو، بعض ذمہ داریوں کے پہلوان کی نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔اس لئے عربی میں جو نصیحت کے لئے لفظ استعمال ہوا ہے اور لفظوں کے علاوہ ان میں ایک ذکر ہے اور قرآن کریم میں زیادہ تر یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔اس لئے یادہانی کے طور پر قرآنی روح کے پیش نظر میں آپ کو جو UK میں بستے ہیں آپ کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کروں گا اور وہ لوگ جو باہر سے آنے والے مہمان ہیں ان کوان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کروں گا۔سب سے پہلے تو گھروں کی پیشکش ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلستان میں جو طرزِ رہائش ہے جس قسم کے گھر یا جتنے جتنے حجم کے کمرے ہوتے ہیں ان میں اس کثرت سے تو مہمانوں کو نہیں بسایا جا سکتا جس طرح ربوہ یا قادیان کے مکانوں میں خواہ وہ غرباء کے مکان ہی کیوں نہ ہوں۔وہاں چھوٹے سے چھوٹے غریبانہ مکان میں بھی عموماً برآمدے ہوتے ہیں اور وہ برآمدے کھلے کمروں کا کام دیتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک ایک برآمدے میں جو بظاہر چھوٹا سا گھر ہوتا