خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد۵ 444 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء رہتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ پاکستان میں قربانیوں کے دائرے بدلتا چلا جارہا ہے۔کبھی ایک دائرہ میں قربانیوں کی توفیق مل رہی ہے پھر وہاں سے روشنی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی روشنی بہتی ہے تو کسی اور جگہ فوکس (Focus) کر دیتی ہے پھر وہاں بکثرت جماعت کو قربانیوں کی توفیق ملتی ہے۔پھر وہاں سے وہ روشنی کسی اور سعادت مند جگہ کو عطا ہوتی ہے اور وہاں لوگ قربانیوں سے برکتیں حاصل کرتے ہیں۔تو یہ ایک بہت ہی وسیع کہانی ہے اور گذشتہ دو تین سال کے اندر پاکستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہا جہاں اللہ تعالیٰ نے بڑے پیمانے پر جماعت کو خدمت اور قربانی کی توفیق عطانہ فرمائی ہو۔سندھ میں دیکھئے ! تھر پار کر کے علاقہ میں ، کنری کی گلیوں میں کس طرح نوجوان ذلیل کئے گئے بظاہر گلیوں میں گھسیٹے گئے ، بے ہوش ہو کر گرے وہاں مار کھا کھا کر جیلیں بھر دی گئیں ان سے۔عمرکوٹ کی جیل بھری گئی اور وہاں جگہ ختم ہو گئی تو مٹھی کی جیل میں پہنچایا گیا۔میر پورخاص میں قیدی منتقل کئے گئے۔بڑے وسیع پیمانے وہاں پر قربانی دی گئی۔اب ان سب کو آپ کا یہ محبت بھرا تحفہ کیسے پہنچایا جاتا۔اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ ان سب کو خدا تعالیٰ کی اس تقدیر نے آپ کا یہ تحفہ پہنچا دیا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کی طرف سے اقوامِ عالم کو قرآن کریم کا تحفہ ملتا رہے گا۔پھر کراچی ہے ، نہ صرف یہ کہ کراچی نے باہر جا کر اس عظیم الشان دور میں بہت ہی غیر معمولی خدمت کی توفیق پائی بلکہ کراچی میں بھی بکثرت نوجوان ہیں جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں محض اس وجہ سے برداشت کیں کہ کلمہ طیبہ سے ان کو محبت تھی اور اس محبت سے کسی قیمت پر بھی الگ ہونے کے لئے تیار نہیں تھے۔سکھر میں جو واقعات ہوئے ہسکھر کی جیلوں میں جو واقعات ہوئے ان سے آپ واقف ہیں۔آج بھی ہمارے دو نو جوان احمدی مخلصین یہاں موجود ہیں جنہوں نے نہایت ہی خوفناک اذیتیں کلمہ کی محبت کی وجہ سے سکھر کی جیلوں میں برداشت کی ہیں یا پولیس کی حوالات میں تکلیفیں برداشت کی ہیں۔غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ انہیں حوصلے بخشتار ہا، صبر عطا فرما تا رہا اور سکھر کی گلیوں میں بار بار احمدی مخلصین کا خون بہایا گیا ہے۔یہ سب لوگ ، ان سے تعلق رکھنے والے سارے لوگ اس بات کے حق دار تھے کہ جماعت ان کو ایک محبت بھرا پر خلوص تحفہ پہنچاتی اور اس ذریعہ سے یہ ان کو تحفہ اللہ تعالیٰ نے پہنچا دیا۔