خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 443

خطبات طاہر جلد۵ 443 خطبہ جمعہ ۲۰ /جون ۱۹۸۶ء کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں (دیوان غالب صفحه : ۱۶۱) ہم جو حقیقت میں دین کی معرفت کو سمجھنے والے ہیں ہم کیسے یہ کر سکتے ہیں کہ آنے والے کل کے مخلصین کے حق میں یہ بدظنیاں کریں کہ جب اس زمانہ میں ضرورتیں پیدا ہوں گی تو وہ ان کو پورا نہیں کرسکیں گے۔ہمارے ٹرسٹ ہی ہیں جو ان کے کام آئیں گے اور گویا خدا تعالیٰ ان ٹرسٹوں کے ذریعہ ان ضرورتوں کو پورا کرے گا اور جس طرح جماعت کو خدا تعالیٰ بے ساختہ آج تو فیق عطا فرما رہا ہے کل سر مخلصین کو یہ توفیق نہیں عطا فرمائے گا۔یہ تو بہت بڑی بدظنی ہے اور بہت بڑی محرومی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ایسے واقعات دوبارہ بڑی سطح پر کہیں پیدا ہوں تو ناممکن ہے کہ جماعت کے دل ٹھنڈے ہو جا ئیں اس بناء پر کہ کسی ٹرسٹ کے ذریعہ اللہ کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں جب تک محبت کے ساتھ قربانی کی روح کے ساتھ خود شامل نہیں ہوں گے جب تک ان کو یہ توفیق نہ ملے کہ انہوں نے حصہ لیا ہے اس میں اس وقت تک ان کے جذبہ ایمان اور جذبہ خلوص کو تسکین مل ہی نہیں سکتی۔تو ٹرسٹ سے دل اتر گیا فوری طور پر اور میں نے وہاں بھی ہدایت کر دی کہ اس ٹرسٹ کا خیال چھوڑ دیں جو رقم آتی ہے اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور اللہ نے ہی پہلے ضرورتیں پوری کی تھیں آئندہ بھی کرتا رہے گا۔آئندہ کے مخلصین پر بھی بدظنی نہ کی جائے۔یہ رقم ختم ہوگی تو خدا اور مہیا فرمادے گا اس لئے ٹرسٹ کے خیال کو چھوڑ دیں۔اوران سب باتوں کے باوجود ایک بڑی رقم ان ضرورتوں کو جو چند سال تک پیش نظر رکھی تھیں میں نے ، ایک بڑی رقم ان ضرورتوں سے بچ جاتی تھی۔یہ وہ بچی ہوئی رقم تھی جس کے متعلق خیال تھا کہ اسے کس طرح اس مقصد میں خرچ کیا جائے اور کس طریق پر خرچ کیا جائے کہ سب قربانی کرنے والوں کو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کا یہ محبت بھرا تحفہ پہنچ جائے۔تو اس وضاحت کے بعد امید ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی وہم کوئی غلط خیال پیداہور ہا تھا تو وہ ختم ہو جائے گا ہمیشہ کے لئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ قربانی کا یہ دور بہت ہی وسیع ہے وقتی طور پر ہماری نظریں کسی خاص قربانی کے حصہ پر مرکوز ہو جاتی رہی ہیں لیکن جس طرح Limelight بدلتی ہے، روشنی کے توجہ کا مرکز پھرتا