خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد۵ 432 خطبه جمعه ۱۳ جون ۱۹۸۶ء اور قوم نمائندہ بنا کر بھجوا رہی ہے اور یہاں آ کر جب میں کہتا ہوں کہ مانگو جو مانگتے ہو میں تمہیں ضرور دوں گا تو خانہ کعبہ کو میرے حملہ سے بچانے کی بجائے مجھ سے اپنے سو اونٹ مانگ رہا ہے سو اونٹ۔تو بڑی نفرت اور حقارت سے اس نے کہا کہ یہی تھی تمہارے دماغ کی بیچ، اپنے سو اونٹ مانگ رہے ہوا اور خانہ کعبہ کا ذکر بھی نہیں کیا۔اس نے کہا اے بادشاہ! مجھے تو اتنا پتہ ہے کہ میں ان اونٹوں کا رب ہوں اور مجھے ان کی فکر ہے جن کا میں رب ہوں اور خدا کی قسم خانہ کعبہ کا بھی ایک رب ہے وہ جانتا ہے کہ کس طرح اپنے گھر کی حفاظت کرے۔یہ کہ کر وہ چلے گئے اور خانہ کعبہ کے رب نے پھر وہ غیرت کا نمونہ دکھایا کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ابرہہ کا نام اور اس کے لشکر کا نام ان مرد و دلوگوں کی صف میں لکھا گیا جن کو آسمانی عذاب نے پارہ پارہ کر دیا۔اور مردوں کے ساتھ کھیلنے والے اور ان کو بھنبھوڑنے والے اور ان کا گوشت کھانے والے جانوران پر مسلط ہوئے۔اور وہ مٹی کے پتھروں کے ساتھ ٹکڑا ٹکڑا کر ان کو مارتے تھے اور بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر ان کا گوشت کھاتے تھے اس طرح وہ ساٹھ ہزار کا لشکر اپنے انجام کو پہنچا۔(سیرۃ حلبیہ اردوجلد اول صفحہ :۱۹۹) تو کیا یہ لوگ اصحاب فیل کے مضمون سے بھی واقف نہیں۔کیا ان کو پتہ نہیں کہ جس خدا کی ہم عبادت کرتے ہیں اور جس کے نام پر خالصہ اس کی محبت میں ہم نے مساجد تعمیر کیں ہیں۔ہم کیا ہیں اور ہماری حیثیت کیا ہے وہی ہے جو ان میں سے ہر ایک گھر کا رب ہے اور ہر ایک بیت جو ہم اس کی عبادت کے لئے تعمیر کرتے ہیں اس کا وہی خدا ہے۔اس خدا کی غیرت آج بھی زندہ ہے جس خدا کی غیرت اس وقت زندہ تھی جب عبد المطلب نے ابرہہ کو اس کی غیرت سے ڈرایا تھا۔اور ابر ہ کیا چیز تھا محمد مصطفی ﷺ تمہیں ہمیشہ کے لئے اس کی غیرت سے خبر دار کر چکے ہیں اور محمد مصطفیٰ کا قرآن آج بھی للکار رہا ہے اور آج بھی تمہیں ڈرا رہا ہے کہ خدا سے اس معاملہ میں ٹکر نہ لینا اور خدا کی خاطر تعمیر ہونے والی عبادت گاہوں کا رخ نہ کرنا۔پس ہم کیا اور ہماری حیثیت کیا ہم تو تمہارے مقابل پر اس سے بھی بہت زیادہ کمزور ہیں جتنا ابرہہ کے لشکر کے مقابل پر مکہ میں بسنے والے قریش تھے بلکہ سارا عرب کمزور تھا۔اس سے بھی کئی گنازیادہ ہماری کمزوری کی حیثیت ہے۔لیکن قرآن کا خدا تمہیں للکار رہا ہے اور تمہیں متنبہ کرتا ہے اگر