خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد۵ 431 خطبه جمعه ۱۳ / جون ۱۹۸۶ء کے لئے باقی نہیں رہی تھی کہ خانہ کعبہ کی حفاظت اس فوج کے مقابل پر کرسکیں۔اس وقت عرب سرداروں نے سر جوڑے اور مشورہ کیا اور سوچا کہ عبدالمطلب ہم میں سب سے زیادہ وجیہ اور سب سے زیادہ معزز اور سب سے زیادہ سرداری کے سلیقے رکھنے والا انسان ہے۔اس کو اگر ہم اپنا سفیر بنا کے بھیجیں تو ممکن ہے کہ ابرہہ کا دل نرم ہو جائے اور وہ خانہ کعبہ کے انہدام کا فیصلہ بدل لے۔چنانچہ انہوں نے عبد المطلب کو اپنا اہل مکہ اور اہل عرب کا سفیر بنا کر ابرہہ کی طرف بھجوایا اس کا لشکر کچھ فاصلے پر خیمہ زن تھا۔ابرہہ ان کی شکل وصورت ، ان کی وجاہت ، ان کی عقل مندی ، ان کی معاملہ نبی سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوا۔مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کا دل ان کے لئے نرم پڑ گیا۔چنانچہ چونکہ وہ بہر حال ایک بڑا جابر بادشاہ تھا بادشاہ کا نمائندہ تھا گورنر لیکن خود بھی اپنے علاقہ میں بادشاہ ہی تھا اس لئے کلیہ اپنے اس فیصلہ سے انحراف تو اس کے لئے ممکن نہیں تھا کہ حملہ کرنے آیا ہے اور اچانک فیصلہ بدل لے لیکن شاہانہ انداز ہوتے ہیں اس نے ایک ایسی بات کہی عبدالمطلب کو کہ اس کے نتیجہ میں اس نے ہاتھ باندھ دیئے اور عہد کی پابندی کے بہانے عملاً ایسی صورت پیدا کر دی کہ اگر حضرت عبد المطلب اس سے یہ مطالبہ کرتے کہ خانہ کعبہ پر حملہ کا فیصلہ ترک کر دو تو وہ قول دے بیٹھا تھا اس لئے اسے لازماًوہ فیصلہ ترک کرنا پڑنا تھا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مجھ پر تاثر ہے کہ چونکہ سمجھدار آدمی تھا اور متاثر ہو چکا تھا قول دیا ہی اس لئے تھا کہ اب یہ آیا ہے نمائندہ بن کر مجھ سے یہ کہے گا کہ اب آپ مجھے قول دیتے ہیں اور مجھے اختیار دیتے ہیں کہ جو چاہوں مانگوں اس لئے میں کہتا ہوں کہ حملہ ختم کریں اور واپس چلے جائیں یہی نیت بظاہر معلوم ہوتی ہے اس گورنر کی جب اس نے یہ کہا اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دیکھ کر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اس نے یہی بات کہی کہ اے عبدالمطلب ! میں تم سے خوش ہوں اور میں تمہیں اختیار دیتا ہوں کہ اپنے دل کی بات کہو جو چاہتے ہو مانگو میں وہ بات پوری کرونگا۔عبدالمطلب نے کہا کہ اور تو کچھ نہیں مجھے ضرورت۔میرے سواونٹ ہیں جو تمہارے قافلے والوں نے چرا لئے ہیں، تو میرے تو سو اونٹ واپس کر دیجئے۔جتنا نیک تاثر قائم ہوا تھا عبدالمطلب کے متعلق اس کے دل میں اچانک صاف ہو گیا بلکہ سخت غصے سے بھر گیا۔اس نے کہا اتنا اچھا نظر آنے والا انسان اتنا گھٹیا نکلا کہ خانہ کعبہ پر حملہ ہورہا ہے