خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد۵ 30 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء پر قادر ہے تو ایسی باتیں کرنے پر قادر ہے جو حسین ہوں، جن کے اندر توازن پایا جائے جو عیب سے مبرا ہوں اور جن میں خوبیاں پائی جاتی ہوں اور یشاء کے معنی پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زور دیا اور فرمایا کہ یشاء سے مراد ہے جو وہ چاہتا ہے تم میں سے نسبتا پاک لوگ ہیں وہ تو یہ نہیں چاہتے کہ وہ گندگی کریں۔خدا کے متعلق تم کیسے سوچ سکتے ہو کہ وہ کوئی بیوقوفی والی بات کوئی گندگی کی بات کوئی نا مناسب اور بے ہودہ بات کرنے کے متعلق سوچ بھی سکتا ہے تو یشاء کا تعلق چونکہ اللہ کی سوچ ، اللہ کی فکر، اللہ کے ارادے سے ہے اس لئے ہر وہ بات جو غلط ہے وہ ویسے ہی خارج از امکان ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر زور دیا کہ ان بحثوں کو ختم کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس قسم کی بحثیں گستاخی ہیں اور نہایت ہی نا مناسب بات ہے کہ خدا کی متعلق کوئی دور کی بھی لغو بات سوچی جا سکے۔تویشآء اور قدیر میں دونوں کے اندر یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ خدا جب چاہتا ہے تو غلط بات چاہ سکتا ہی نہیں ان معنوں میں کہ اس کے حکمت بالغہ کے خلاف ہے اور قدرت کے معنی یہ ہیں کہ جو چیز متوازن ہو اور اچھی ہو اور حکمت سے تعلق رکھتی ہو۔پس جب یہ کہیں گے کہ فلاں گندی چیز خدا نہیں کر سکتا تو یہ خدا تعالیٰ کی صفت پر حرف نہیں آتا بلکہ ایسی بات ہے جیسے کہیں کہ فلاں شخص فلاں تصویر نہیں بنا سکتا جوکسی بڑے آرٹسٹ نے بنائی ہے، فلاں شخص فلاں قسم کے میوزک نہیں بنا سکتا بڑے میوزیشن نے بنائی ہے۔تو وہاں اس کا قدرت سے عاری ہونا ثابت ہوگا جو نہیں بنا سکتا یعنی اچھے میوزیشن کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ چونکہ گندی میوزک نہیں بنا سکتا اس لئے وہ قادر نہیں ہے۔قدرت کا مضمون بھی اعلیٰ تخلیق سے تعلق رکھتا ہے۔قدرت کے فقدان کے نتیجے میں بد چیزیں پیدا ہوتی ہیں نہ کہ قدرت کے موجود ہونے کے نتیجہ میں بد چیزیں سوچی جاسکتی ہیں اس لئے اگر خدا قدیر ہے تو اُس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے قدرت کا فقدان ثابت ہو وہ چیز اُس میں شامل نہیں ہے۔ایک تو یہ ضروری بات تھی جو بتانے والی تھی۔دوسری ایک نیا مضمون ہے جو خدا تعالیٰ نے پہلے خطبے کے دوران مجھے بتایا اور اُس کے بعد پھر اُس مضمون کو تفصیل سے مجھے سمجھایا۔آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ خطبے کے دوران جب میں لغوی معنی بیان کر رہا تھا تو میں نے کہا کہ ایک معنی اس کا علمہ بھی ہے یعنی اُس نے سکھایا۔یہ کہہ کر چونکہ مجھے یاد تھا کہ میرے نوٹس میں کہیں