خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد ۵ 29 29 خطبہ جمعہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء میں ان مناظروں میں بہت کشت و خون ہوا اور بہت سے لوگوں کے گھر لوٹے گئے اور بچے یتیم کئے گئے اس وجہ سے کہ یہ بخشیں اشتعال پکڑ گئیں۔ایک فریق کہتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور دوسرا فریق کہتا تھا کہ اس بات پر قادر نہیں۔ایک فریق کہتا تھا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جسے ہم جنسی گناہ کہتے ہیں وہ جنسی گناہ کرے اور دوسرا فریق کہتا تھا کہ اس پر قادر نہیں۔پہلے فریق کے خلاف تو جو اعتراض ہے وہ ظاہر وباہر ہے جس کے نتیجے میں عوام کا اشتعال پکڑنا کوئی تعجب کی بات نہیں ، دوسرے فریق کے خلاف اس لئے اشتعال آتا تھا کہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بعض چیزوں پر قادر نہیں۔اُس کے آدھی قدرت کا انکار کر رہے ہیں اور جب اُن سے سوال کیا جاتا تھا کہ ایسی لغو بخشیں کیوں کرتے ہو تو جواب دیتے تھے کہ یہ مجبوری ہے یہ امکان کی بحث ہے اور امکان کی بحث میں کوئی حرج نہیں ہے جس قسم کی مرضی امکان کی بحث کر لو۔لیکن ان لوگوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اپنی والدہ کی بدکاری کے امکان پر کیوں بحث نہیں کرتے تو وہ اس بات پر قتل و خون خرابے کے لئے تیار ہو جائیں۔یعنی صرف خدا تعالیٰ کی غیرت ہی ایک ایسی ادنی اور معمولی بات ہے کہ اُس پر امکانی بخشیں بے شک جس طرح مرضی اٹھائی جائیں۔تصور کو جس گندگی میں چاہوا تار دو لیکن اپنے عزیزوں اور قریبوں اور خونی رشتہ داروں اور محبت کرنے والوں اور جن سے تم محبت کرتے ہو ان کے متعلق کوئی ادنی سی بات بھی برداشت نہ کر سکو۔یہ کہاں کا انصاف ہے چنانچہ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آریوں اور عیسائیوں سے مناظرے ہوئے تو جو مؤقف اختیار کیا وہ نہایت ہی عظیم الشان ہے اور نہایت ہی گہرا عالمانہ موقف ہے۔آپ نے دو پہلوؤں سے اس پر بحث فرمائی ہے۔اول تو قدرت کا معنی کیا ہے؟ جب قدرت کا معنی پر آپ غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ قدرت کا معنی ہے متناسب چیز پیدا کرنے والا ، متناسب فعل کرنے والا جیسا کہ میں نے لغوی معنی آپ کے سامنے بیان کئے تھے ہر وہ چیز جس میں ایسی تساوی پائی جائے، ایسا آپس میں Balance جس کو انگریزی میں کہتے ہیں Symmetry توازن اتنا خوبصورت پایا جائے کہ ذرا سا بھی فرق نہ ہو اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قدرت کے اندر ہی حکمت شامل ہے اس لئے جو چیز بھی حکمت کے خلاف ہے۔وہ قدرت کے خلاف ہے جب کہا جاتا ہے کہ قدیر ہے تو قدیر سے مراد یہ ہے کہ وہ حکمت کے فعل کرنے