خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 330
خطبات طاہر جلد۵ 330 خطبه جمعه ۹ رمئی ۱۹۸۶ء میں قرآن نازل فرمایا گیا۔بعض مترجمین اور بعض مفسرین اس ترجمہ میں یہ دقت محسوس کرتے ہیں کہ قرآن کریم تو تئیس (۲۳) سال کے عرصہ میں پھیلی ہوئی مدت میں نازل فرمایا گیا تو ایک مہینہ میں کیسے نازل ہوا؟ اور چونکہ یہ واقعہ کے خلاف بات ہے اس لئے ایسا ترجمہ نہیں کرنا چاہئے جس کی واقعات تصدیق نہ کرتے ہوں۔فیہ کا چونکہ ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے بارے میں اس لئے یہ ترجمہ اخذ کر لیا گیا لیکن بعض دوسرے مفسرین اور مترجمین اگر چہ اس ترجمہ کو بھی درست سمجھتے ہیں کہ جس کے بارے میں قرآن کریم نازل کیا گیا لیکن ساتھ ہی دوسرے ترجمہ کی بھی تو جیہ پیش کرتے ہیں اور دو طرح سے اس مضمون کو حل کرتے ہیں۔اول یہ کہ قرآن کریم کا آغاز رمضان مبارک کی راتوں میں ہوا۔پہلی وحی جو نازل ہوئی ہے وہ رمضان مبارک میں ہوئی اس لئے اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرآن کا مطلب ہے جس میں قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ایک دوسری توجیہ یہ کرتے ہیں کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرائیل ہر رمضان المبارک میں آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور جتنا قرآن اُتارا جا چکا ہوتا تھا اس کی دہرائی ہر رمضان میں کرتے تھے۔گویا جب قرآن کریم مکمل ہوا تو اس کی بھی مکمل دہرائی ایک رمضان ہی کے مہینہ میں ہوئی۔اس پہلو سے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ترجمہ لفظاً لفظاً بھی درست بنتا ہے کہ اس مہینہ میں گویا پورا قرآن کریم اتارا گیا۔وہ قرآن جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت بنا کے بھیجا گیا ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے ایسے دلائل جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن میں الہی نشان بھی ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص اس مہینے کو اس حال میں دیکھے کہ نہ تو وہ مریض ہو نہ مسافر اُسے چاہئے کہ وہ اسکے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد پوری کرنی واجب ہوگی۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔اور یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو اور تا کہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اُس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم اُس کے شکر گزار بندے بنو۔اور اے رسول یعنی آنحضور مخاطب