خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد۵ 305 خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۶ء حیثیت نہیں ہے اور اس کے معاً بعد کفار سے خطاب چھوڑ کر خدا تعالیٰ مومنوں سے مخاطب ہوتا ہے۔فرماتا ہے فَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ مُخْلِفَ وَعْدِم تو ہر گز یہ گمان نہ کر کہ اللہ رسولوں کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کو ٹلا دے گا ، ان سے منحرف ہو جائے گا۔ہرگز نہیں جو وعدے خدا تعالیٰ اپنے رسولوں سے کرتا چلا آیا ہے ان سے وہ کبھی منحرف نہیں ہوگا۔اِنَّ اللهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ خدا تعالیٰ یقیناً بہت غلبے والا اور قوت والا ، انتقام لینے والا ہے۔یہاں آنحضرت علی کو مخاطب فرما کہ خدا تعالیٰ وعدوں کو ٹالنے والا نہیں یہ نہیں فرمایا کہ تیرے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں اُن کو نہیں ٹالے گا۔اس لئے کہ یہاں ایک اللہ کی سنت کا بیان ہورہا ہے جو ہمیشہ سے چلی آرہی ہے۔اس لئے یہ فرق نہیں دکھانا مقصود کہ جو وعدے خدا تعالیٰ نے صلى الله آنحضرت ﷺ سے فرمائے ہیں محض اس وجہ سے ان کو نہیں ٹالے گا بلکہ فرمایا کہ جو وعدے رسولوں سے میں کرتا ہوں خواہ ان کی کوئی بھی حیثیت ہو ، اول ہوں، آخر ہوں ، ادنی نظر آئیں یا اعلی دکھائی دیں، خدا کا یہ اٹل قانون ہے کہ اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کو کبھی وہ نہیں ٹالتا۔اس میں ایک عظیم الشان قوت پیدا ہو جاتی ہے۔کسی جگہ کسی حیثیت میں بھی کوئی رسول آیا ہو یا کسی جگہ کسی حیثیت سے بھی کوئی رسول آنے والا ہو۔یہ اٹل قانون ہے خدا تعالیٰ کا کہ اس کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو وہ کسی صورت میں نہیں ٹالے گا اور عزیز بھی بنے گا اور ذ وانتقام بھی بنے گا۔عزیز کا مطلب ہے جو غالب ہو اور قدرت رکھتا ہو غلبے پر اور اس کا غلبہ اس کے لئے عزت کے سامان بھی پیدا کرے یعنی تحقیر اس غلبہ کا حصہ نہ ہو جس کے نتیجے میں دنیا اس کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے لگے۔عزیز کے لفظ کو اس لحاظ سے سمجھنا ضروری ہے کہ غلبہ تو بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کا بھی ہو جاتا ہے ، ہٹلر بھی غالب آگیا تھا، ہلاکو خان بھی غالب آگیا تھا۔لیکن ان کا غلبہ عزیز کا غلبہ نہیں تھا کیونکہ اس غلبے کے ساتھ ذلتیں وابستہ تھیں، اس غلبے کے ساتھ ہمیشہ کی بعد میں آنے والی لعنتیں بھی ابستہ تھیں۔جب تک ان یادوں کو زندہ رکھا جائے گا ان کے ساتھ ان لعنتوں کو بھی زندہ رکھا جائے گا جو بعض ظالموں نے اپنے وقت میں کمائیں اور ایسی کمائیں کہ نسلاً بعد نسل بھی وہ ختم نہیں ہوتیں۔لیکن جب عزیز کا غلبہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ عزت کا مفہوم لازم ہے۔اسی لئے عزت اور عزیز بظاہر دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل جل گئے ہیں یہ مفہوم کہ ایک ہی لفظ