خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد۵ 304 خطبه جمعه ۲۵ / اپریل ۱۹۸۶ء جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سے پہلے تنبیہات پہنچ چکی ہیں اور عبرتوں کے سامان ان کے لئے مہیا کر دیئے گئے ہیں۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان لوگوں کے مساکن میں رہ رہے ہو، ان بستیوں میں رہ رہے ہو، ان کے گھروں میں بس رہے ہو جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کئے تھے۔وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمُ اور خوب اچھی طرح تم پر روشن ہو چکا ہے کہ پھر ہم نے ان سے کیسا سلوک کیا تھا۔وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ اور ہم نے تو مثالیں دے دے کر، کھول کھول کر یہ معاملات تمہیں خوب سمجھا دیئے۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ مکر سے باز نہ آئے۔وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ جو کچھ ان سے ہو سکتا تھا وہ مکر کر گزرے۔مَكَرُوا مَكْرَهُمُ کا مطلب ہے اپنے مکر کو اپنی حد استطاعت تک انتہا تک پہنچا دیا۔وَعِنْدَ اللهِ مَكْرُهُمْ اور ان کا مکر اللہ کے پاس ہے۔اس کا مطلب کہ اللہ کے پاس ان کا مکر ہے، یہ ہے کہ مکر اگر نظر اور احاطے سے باہر ہو تو پھر وہ خطرناک ہوتا ہے۔عموماً مکر چھپ کر کئے جاتے ہیں ، تدبیروں پر اخفا کے پردے ڈالے جاتے ہیں تا کہ جب وہ اچانک ظاہر ہوتو زیادہ سے زیادہ نقصان اپنے دشمن کو پہنچا سکے۔لیکن جو مکر اُس کی نظر سے اوجھل نہ ہو جس کے خلاف مکر کیا جا رہا ہے بلکہ یہی نہیں بلکہ وہ اس مکر کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہو۔عِنْدَ اللهِ مَكْرُهُمْ کا یہ مطلب بنا کہ ان کا مکر تو خدا کے حضور ایک ایسی معمولی سی چیز کی طرح پیش نظر ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔خدا کی تقدیر اُس مکر کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔چنانچہ آیت کا اگلا ٹکڑا اسی مضمون کو نمایاں کر رہا ہے۔فرمایا وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ کہ خواہ اُن کے مکر کی حیثیت اتنی بڑی کیوں نہ ہو، خواہ ان کا مکر اتنا خطرناک ہی کیوں نہ ہو کہ پہاڑ اُس مکر سے ٹل جائیں اور اس کے بعد جو بظاہر ایک سوالیہ فقرہ ہے اور انسان توقع رکھتا ہے کہ جواب آئے گا۔اس کے بعد اس کا جواب نہیں ہے۔اِنْ كَانَ مَكْرُ هُمُ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ اگر اُن کا مکر اتنا بڑا بھی ہو کہ پہاڑٹل جائیں آگے کیا ہے اس کا جواب نہیں آیا۔تو لازماً اس کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے۔اور یہ اسی کی تشریح ہے اور یہ جواب ہے عِنْدَ اللهِ مَكْرُهُمْ کہ خواہ پہاڑ ان کو ٹلا دینے والے مکر بھی وہ اختیار کریں تب بھی ان کا مکر خدا کے حضور ایک معمولی سی چیز کے طور پر سامنے رہتا ہے۔اس کی کوئی