خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 277

خطبات طاہر جلد۵ 277 خطبه جمعها ارایریل ۱۹۸۶ء لے رہے ہیں، پسندیدگی سے لے رہے ہیں، آپ کو سوال پسند آیا تھا اس کا جواب آگیا ہے۔تو جب بتایا گیا تو آپ نے فرمایا دیکھو خیر شر کو جنم نہیں دیا کرتی ، خیر سے شر پیدا نہیں ہوتا لیکن تم دیکھتے ہو کہ جب بہار آتی ہے تو بہار میں اگنے والی فصلوں کے ساتھ ایسی جڑی بوٹیاں بھی تو اگ آتی ہیں جن کو کھانے سے لوگ مر جاتے ہیں یا مر سکتے ہیں ( بخاری کتاب الزکاۃ حدیث نمبر : ۱۳۷۲)۔تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت علیہ کو اس سوال کا یہ جواب سکھایا۔تو ظاہری فتح بھی جب مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں بھی وہ خیر حاصل کر سکتے ہیں۔ظاہری فتح کا نام شر نہیں رکھا گیا۔شراس بات کا نام رکھا گیا ہے کہ ظاہری فتح کے ساتھ جو انسان کی روحانی زندگی کو مارنے والی اور مہلک جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔نعمتوں کے نام پر بعض ایسی چیزیں حاصل ہوتی ہیں جو انسانی زندگی کو تباہ کرنے والی ہوتیں ہیں۔اگر ان سے احتراز کرو تو ظاہری فتح بھی ایک رنگ میں دین کے تابع ہو سکتی ہے اور حقیقی نعمت شمار کی جاسکتی ہے۔چنانچہ اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا کہ دیکھو مومن کو جو مال عطا ہوتا ہے، جو نعمتیں ملتی ہیں وہ نعمتیں بنتی ہیں جب وہ ان سے خدا کے حق ادا کرتا ہے۔جب وہ اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے، غریبوں کے اوپر خرچ کرتا ہے، مصیبت زدگان پر خرچ کرتا ہے اور خرچ کی کئی اقسام بتائیں کہ اس طریق پر نعمتیں نعمتیں بھی رہ سکتی ہیں اور عذاب میں تبدیل نہیں ہوتیں۔لیکن یہ ایک ثانوی چیز ہے۔حقیقی نعمت حقیقی خیر حقیقی خوش خبری اسی بات میں ہے کہ دین کو غلبہ عطا ہو جو اجسام پر غلبہ نہیں ہوتا بلکہ دلوں پر غلبہ پر ہوتا ہے ، وہ دوسروں کی زندگیاں لے کر غلبہ نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کو زندگیاں عطا کر کے غلبہ ہوتا ہے۔اس لئے اسلام کا غلبہ از سرنو روحانی زندگی کا غلبہ ہے، اسلام کا غلبہ وہ قیامت ہے جس میں شیطان پر موت آتی ہے لیکن سچی اور سعید روحیں نئی زندگی پاتی ہیں۔احمدیت کو ہمیشہ اپنی نظریں اس نکتہ کی طرف گاڑے رکھنی چاہئیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے ورنہ دنیا کی فتوحات، دنیا کے غلبے، دنیا کے انقلاب ان کو غلط راہوں پر ڈال دیں گے ، ان کی تو جہات کے رخ بدل دیں گے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں ان کو عطا فرمائی تھیں وہ کس طرح انہوں نے اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیں۔آج کل جو پاکستان میں نئے حالات پیدا ہو رہے ہیں اور بظاہر یوں معلوم ہو رہا ہے کہ