خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 242

خطبات طاہر جلد۵ 242 خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۸۶ء دن سے ڈرو جس دن تمہارے گناہوں کے بدلے میں کوئی بھی اس کے برابر وزن کا مال قبول نہیں کیا جائے گا۔مطلب یہ ہے کہ تم اموال دے کر خدا سے اپنی جانوں کو چھڑا نہیں سکو گے۔ایک اور جگہ یہ فرمایا کہ اگر پہاڑوں کے برابر سونا بھی پیش کرو تو وہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور رد کر دیا جائے گا۔دو باتیں ذہن میں اُبھرتی ہیں۔اول یہ کہ مرنے کے بعد تو انسان مادی دنیا کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور کچھ بھی یہاں سے وہاں منتقل نہیں کر سکتا اس لئے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ کوئی عدل پیش کرے یا اس سے بڑھ کر کچھ پیش کرے یا سودابازی کا کسی قسم مگمان بھی اس کے دل میں پیدا ہو۔دوسرے قرآن کریم تو خود وضاحت سے فرما رہا ہے کہ يَوْمُ الدِّينِ تو وہ دن ہے يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلَّهِ © (الانفطار :۲۰) کہ جو کچھ کسی کا تھا بھی وہ بھی اس کا نہیں رہے گا ، تمام ملکیت ، تمام کائنات کلیہ اپنے مالک رب کی طرف لوٹ چکی ہوگی۔يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا نہ کوئی اپنی جان کے لئے کسی چیز کا مالک ہوگا نہ کسی دوسری جان کے لئے کسی چیز کا مالک ہوگا۔تو اس کے بعد اس بے چارے نے سودا بازی کیا کرنی ہے اور کیا پیش کرنا ہے، کیا عدل کا خیال، کیا اس سے بڑھ کر دینے کا تصور، یہ ساری باتیں موہوم اور بے تعلق ہی دکھائی دینے لگتی ہیں۔اس لئے لازماً اس آیت کا کوئی ایسا مفہوم ہے جو اطلاق پاتا ہے، جو ایک حقیقت رکھتا ہے اور اسے سمجھے بغیر اس مضمون کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا جس کی طرف خدا تعالیٰ توجہ دلا رہا ہے۔جب ہم دنیا میں مالی قربانی پر نظر ڈالتے ہیں تو دو قسم کی مالی قربانی دکھائی دیتی ہے اور قسموں کے علاوہ ایک جہت سے اسے ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔اول وہ مالی قربانی جو خالصہ اللہ کی جاتی ہے، جو تقویٰ پر مبنی ہوتی ہے۔اس کے متعلق الہی قانون یہ ہے کہ وہ تھوڑی بھی ہو تو خدا کی نظر میں بے شمار کے طور پر مقبول ہوگی اور ایک مالی قربانی وہ ہے جو دنیا کے دکھاوے کے لئے یا دیگر اغراض کی خاطر کی جاتی ہے۔وہ اگر سونے کے پہاڑوں کے برابر بھی ہوتو وہ نا مقبول ہوگی۔تو اس آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب تک تمہیں دنیا میں خدا تعالیٰ نے خرچ کی توفیق بخشی تم اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ تم نے سونے کے پہاڑوں کے برابر اس کی راہ میں خرچ کیا اگر کسی تقویٰ کی کمزوری کی وجہ سے کسی اندرونی گناہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو دنیا میں وہ نا مقبول ہوا تو