خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد۵ 17 خطبه جمعه ۳ /جنوری ۱۹۸۶ء بتایا گیا کہ کل کی فکر نہ کر و جو وقت آئے گا ٹھیک دیکھا جائے گا اور ایک وہ قوم ہے جس کو قرآن کریم نے بار بار بتایا کہ کل کی فکر کرو وَ لَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: ۱۹) خبر دار گران رہو کہ کل تم آگے کیا بھیجنے والے ہو، اپنے مستقبل کے لئے کیا تیاری کر رہے ہو اور جس کو پھر خدا نے اپنی صفات کے بیان کے ذریعہ خوب اچھی طرح آگاہ کر دیا کہ ترقی کی راہیں کیا ہیں اور کس طرح ان پر قدم مارے جاتے ہیں۔وہ ان صفات سے عاری ہو بیٹھے ہیں لوگ اور جن کو یہ نہیں بتایا گیا تھا انہوں نے ایک لمبا سفر خدا تعالیٰ کی عملی قدرت میں اختیار کیا یعنی خدا تعالیٰ نے جو قوانین قدرت اس مادی دنیا کے بنائے ہیں ان میں انہوں نے سفر اختیار کیا اور رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کا عرفان غیر شعوری طور پر حاصل کرنا شروع کر دیا اور صفت قدیری کے بعض پہلو اختیار کے اور دنیا میں ترقی کی۔القدر مبلغ الشيء کس چیز کی حد اور انتہا كون الشيء مساويا بغيره بلا زیادہ کہ ایک چیز کا بغیر کمی یا بیشی کے دوسری چیز کے برابر ہونا۔الطاقة اور طاقت بھی اس کا معنی ہے۔یہ بہت ہی عجیب مضمون ہے جو خدا تعالیٰ کی تخلیق میں ہمیں دکھائی دیتا ہے اس کی قدرت کے معنوں میں۔قدرت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہر چیز کو متوازن رکھنا۔اگر ایک مثبت پہلو ہے تو اس کے برابر ایک منفی پہلو رکھنا یہاں تک کہ جب ترازو میں ان باتوں کو تو لو تو دونوں پہلو بالکل مساوی ہوجائیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت جب عملی تخلیق میں جلوہ گر ہوئی ہے تو حیرت انگیز طور پر اس کی قدیری کی شان ہر جگہ نظر آتی ہے۔جو کچھ بھی اس نے پیدا کیا ہے اس کے اندر یہ توازن آپ کو ملاتا ہے۔ایک پول ہے دائیں کا اور ایک بائیں کا پول ہے۔ایک مثبت قوت ہے ایک منفی قوت ہے اور ان سب کو اگر آپ اکٹھا کر دیں تو Sum Total زیرو ہو جائے گا، بظاہر صفر ہو جائے گا۔یہ اتنا حیرت انگیز توازن ہے کہ اگر ساری کائنات کی تمام منفی چیزوں کو تمام مثبت چیزوں کے ساتھ مدغم کر دیں تو جواب صفر آئے گا، ہر چیز عدم ہو جائے گی اور یہ خدا کی قدیری کی شان ہے کہ اس نے عدم سے اس طرح تخلیق کی ہے کہ مثبت بھی پیدا کیا اور منفی بھی پیدا کیا اور دونوں مختلف پہلو اتنے متوازن پیدا کئے کہ آخری حساب کے نقطہ نگاہ سے ایک ذرہ کا بھی بظا ہر فرق نہیں پڑ رہا۔اس کے باوجود لا متناہی تخلیق کی صورتیں پیدا ہوگئیں۔ایک بھی ہے