خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 16
خطبات طاہر جلد۵ 16 خطبہ جمعہ ۳ / جنوری ۱۹۸۶ء (المدثر: ۱۹) برے معنوں میں بھی بیان کیا ہے کہ فرعون کو دیکھو اس نے ایک اندازہ لگایا اور کام اپنی طرف سے سنوارنے کے لئے اس نے ایک گہری تدبیر کی فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ہلاک ہو۔اس کی تو تدبیر بالکل الٹ گئی ، بجائے فائدہ پہنچانے کے اس کے لئے نقصان کا موجب بن گئی۔تو قدر کا یہ معنی بھی ہے کہ صرف وقتی جذبات یا حالات سے متاثر ہو کر اچانک کوئی کام نہ کرے بلکہ پہلے سے سوچے تذبیر اختیار کرے ایک سکیم بنائے ، اس کے بلیو پرنٹس تیار کرے، اس کے تمام پہلوؤں پر نظر کرے اور پہلے اپنے فکر میں اس کی پلاننگ مکمل کرلے اس کا منصوبہ بنالے پھر اس کو عمل میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔اب یہ وہ پہلو ہے کہ اگر اس کو آپ اختیار کر لیں یعنی جماعت احمد یہ ایک امتیازی نشان کے طور پر اس پہلو کو اختیار کرلے تو دیکھیں آپ کا مقام کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے دنیا کے ہر شعبے میں ، زندگی کے ہر شعبے میں اس عادت سے غیر معمولی فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سے انسان ایسے ہیں جو کام پہلے کرتے ہیں سوچتے بعد میں ہیں یا کام کرتے وقت سوچتے ہیں۔جوں جوں مشکلات پیدا ہوں ساتھ ساتھ ان کا ذہن ان مشکلات کو حل کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور جن قوموں نے خدا کی صفت قدیری سے استفادہ کی کوشش کی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بہت پہلے سوچتے ہیں بلکہ آئندہ آنے والے خطرات کے بارہ میں بھی حتی المقدور ایک تصور باندھتے ہیں اور ان خطرات کو دور کرنے کے لئے بھی ذہن میں ایک پلان مکمل کرتے ، ایک منصوبہ بناتے ہیں اور پھر جو چیز بھی وہ تخلیق کرتے ہیں وہ جہاں تک ان کے لئے ممکن ہے وہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تخلیق کرتے ہیں کہ فلاں وقت اتنی دیر تک چلنے کے بعد اس مشین میں یہ نقص پیدا ہوسکتا ہے اس کے نتیجہ میں یہ خطرات پیش آسکتے ہیں۔ان خطرات کے ازالہ کے لئے ہمیں یہ یہ کرنا چاہئے۔اس کے باوجود انسان پوری طرح قدیر نہیں بن سکتا کیونکہ اس کو تمام علم حاصل نہیں ہے اور قدیر کا علیم سے ایک گہرا تعلق ہے۔جب تک علم مکمل نہ ہو قدرت مکمل نہیں ہو سکتی اس لئے انسان تو اس میں ٹھوکر کھا جاتا ہے لیکن بہر حال جتنا جتناوہ خدا کی صفت قدیری کے قریب بڑھتا ہے اتنا اتنا اس کی تخلیق ، اس کی صنعت زیادہ حسین تر ہوتی چلی جاتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے مسلمان جن کو یہ گر سکھائے گئے قرآن کریم کی طرف سے وہ بالعموم اس سے کلیہ غافل ہیں نہ منصوبہ بناتے ہیں نہ یہ فکر کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے بلکہ ایک عجیب ظالمانہ تضاد پیش کر رہے ہیں یعنی ایک وہ قوم تھی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی جن کو یہ