خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد۵ 159 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء جب فائر کی آواز آئی بندوق کے چلنے کی تو وہ نیچے آئے اسوقت ان کو پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ساہیوال میں موجود نہیں تھے۔ان گیارہ میں سے۔وہ آٹھ آٹھ دس دس میل دور دیہات میں رہنے والے تھے مگر ان علماء نے جانتے ہوئے دیکھتے ہوئے کہ سارا جھوٹ ہے نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کا نام پرچے میں درج کروایا جن کا کوئی دور سے بھی تعلق نہیں تھا بلکہ سارا سراسرالف سے ی تک پوری کی پوری جھوٹی کہانی بنائی۔چونکہ دواحمدی جن کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے قتل میں حصہ لیا ہے وہ وکیل تھے اور بار کونسل کے ممبر اور ہر دلعزیز ممبر تھے۔اس لئے ان مولویوں کے جھوٹ سے پردہ فاش کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا کہ بار کونسل نے ایک بڑا شدید Resolution پاس کیا اور اس بات کی گواہی دی کہ یہ دو احمدی جو ممبر ہیں ہماری کونسل کے ان کے متعلق تو ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ ان کا دور سے بھی اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔اس لئے ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا نام خارج کیا جائے۔اتنا یہ جھوٹ مشہور ہوا اُس علاقے میں کہ بہت سے چوٹی کے شریف وکلاء جو Criminal Cases کے ماہرین تھے انہوں نے علماء کے مقدمہ کی پیروی سے کلیہ انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اتنا جھوٹا مقدمہ، ایسا ظالمانہ الزام کہ معصوم لوگ جن کا کوئی دور سے بھی تعلق نہیں ان کو تم شامل کر رہے ہو اور پھر ساری کہانیاں الف سے کی تک جھوٹی ہے۔کلمہ مٹانے جارہے ہو اور بیان یہ دے رہے ہو کہ ہم یہ سننے گئے تھے کہ مسجد میں اذان تو نہیں ہورہی اور یہ سننے کے لئے اس وقت گئے تھے جبکہ نمازیں بھی ختم ہو چکی تھیں اور نمازی اپنے اپنے گھروں کو بھی جاچکے تھے اور ہم اندر گئے بھی نہیں، یہ بھی مولویوں کا بیان ہے۔ہم تو صرف کھڑے سن رہے تھے، اس پر فلاں فلاں شخص نے اس طرح فائرنگ کی اور اس طرح حملہ کر کے ہمیں قتل کیا اور پھر گھسیٹ کر اندر لے گئے ، یہ بتانے کے لئے گویا ہم اندر گئے تھے۔چونکہ وکلاء جانتے تھے کہ یہ سارے کا سارا معاملہ جھوٹ ہے۔ویسے تو جھوٹے مقدمات عدالتوں میں چلتے ہی ہیں اور پاکستان کی عدالتیں تو خوب اچھی طرح جھوٹے مقدمات سے آشنا ہیں۔وہاں تو بچے مقدمے کی تلاش کرنی پڑتی ہے لیکن اس معاملے میں وکلاء کی کراہت اس بناء پر تھی کہ جھوٹ بولتے ہو یا گند کھاتے ہو تو دنیا کے نام پر جو چاہو کرو، اسلام کے نام پر جھوٹ بولتے