خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد۵ 158 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء ساہیوال کیس کے نام سے جو مقدمہ بعض احمدی مخلصین کے خلاف دائرہ کیا گیا تھا اس کا پس منظر پھر میں بیان کر دیتا ہوں کیونکہ ممکن ہے بعض نوجوانوں کو یا بعض بڑوں کو دوسروں کو بھی ان واقعات کا یا علم ہی نہ ہوا ہو پوری طرح یا ذہن سے اتر چکے ہیں۔26 اکتوبر 1984 ء کا یہ واقعہ ہے کہ ساہیوال کی مسجد میں صبح نماز کے بعد بعض مولویوں نے اور ان کے مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء نے مل کر ھلہ بول دیا اور اپنے ساتھ وہ برش اور پینٹ وغیرہ لے کر آئے تھے تاکہ مسجد سے جہاں جہاں کلمہ شہادۃ لکھا ہوا ہے اُس کو مٹا دیں۔چنانچہ باہر کی دیواروں پر اور باہر کے دروازے پر تو وہ مٹانے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب اندر مسجد کے دروازے میں جو اندر کا دروازہ ہے اس پر سے کلمہ مثانے لگے تو چند نو جوان جو وہاں اُس وقت موجود تھے انہوں نے مزاحمت کی اور یہ کہا کہ کسی قیمت پر بھی خواہ ہماری جان جائے ہم تمہیں اپنی مسجد سے کلمہ شہادہ نہیں مٹانے دیں گے۔چونکہ اُن کی تعداد بہت زیادہ تھی ایک نوجوان کو تو انہوں نے وہیں پکڑ لیا اور باقیوں کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے مسجد پر حملہ کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔اس وقت وہاں ایک احمدی نوجوان نے بندوق سے دو فضائی فائر کئے تاکہ ڈر کے بھاگ جائیں اور ڈر کر کچھ عرصے کچھ دیر کے لئے وہ بھاگ کر باہر نکل گئے لیکن پھر انہی کے مولویوں نے ان کو کہا کہ یہ پٹاخے تھے تم کس بات سے ڈرے ہو۔چنانچہ وہ دوبارہ ھلہ بول کے اندر گئے اُس وقت اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر یا اس اعلیٰ مقصد کے لئے کہ کسی قیمت پر بھی وہ مسجد احمدیہ سے کلمہ شہادۃ کو نہیں مٹنے دیں گے، اسی نوجوان نے دو فائر کئے اور اس کے نتیجے میں دو حملہ آور وہیں زخمی ہو کر گر گئے اور وہیں انہوں نے جان دے دی اور باقی بھاگ گئے۔اور کچھ عرصے کے بعد جو وہاں واقعات گزرے اس کی تفصیل میں جانے کا تو ذکر نہیں مگر پولیس نے جو ملزم گرفتار کئے جن پہ الزام بتایا گیا وہ سات تھے لیکن مقدمہ گیارہ کے خلاف درج کیا گیا۔ان سات میں سے چار نو جوان وہ ہیں جو یہاں موجود تھے۔لیکن عملاً فائر کر نے والا صرف ایک نوجوان ہے اور باقی تین کی طرف سے حملہ آوروں کو کسی قسم کی کوئی گزند نہیں پہنچی باقی جتنے آدمی ہیں وہ موقعے پر موجود ہی نہیں تھے۔ایک ہمارے مربی سلسلہ ہیں محمد الیاس منیر صاحب۔وہ اوپر مسجد کے ملحقہ مکان میں اس وقت اپنے بیوی بچوں سے گفتگو کر رہے تھے یا تلاوت کر رہے تھے بہر حال گھر میں تھے اس وقت ان کو