خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 121

خطبات طاہر جلد۵ 121 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء رض میں نہ صرف یہ کہ جلدی کرتے ہیں بلکہ حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں اور ان شرائط پر نظر نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا۔ہمیں بتاتا ہے کہ کسی ایک موقع پر بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ جیسا کہ میں نے روایت بیان کی تھی حضرت ابو بکر حضرت عائشہ کو سزا دینے لگے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کی سزا سے ان کی بیٹی کو بچایا۔ایک اور بڑی دلچسپ روایت اس معاملے میں ملتی ہے۔حضرت عمر کا اپنا ایک مزاج تھا۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے مزاج میں بڑا فرق ہے۔حضرت ابو بکر کا مزاج بے انتہا نرم تھا اس کے باوجود حضرت عائشہ پر ہاتھ اٹھانا بتاتا ہے کہ کس قدر ان کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق تھا۔اور دوسروں کے متعلق ان کو خیال نہیں آیا کرتا تھا کہ ان پر سختی کی جائے یعنی حضرت ابو بکڑ سے کوئی ایسی حدیث ثابت نہیں کہ یہ مطالبہ کیا ہو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ فلاں پرختی ہونی چاہیئے اور فلاں پر سختی ہونی چاہئے۔مگر حضرت عمر کا مزاج مختلف تھا اس لئے وہ معاشرے کی خرابیاں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے تھے اور جلد تریختی پر آمادہ بھی ہو جاتے تھے اور مشورے بھی یہی دیا کرتے تھے، ایک موقعے پر ابوداؤد، ابن ماجه، دارمی ، مشکوۃ وغیرہ کے حوالے سے روایت ہے: حضرت ایاز بن عبداللہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لا تضربوا اماء الله (ابوداؤد کتاب النکاح حدیث نمبر ۱۸۳۴) کہ دیکھو اللہ کی لونڈیوں کو نہ مارا کرو۔کیسا پیارا طریق ہے نصیحت کا حیرت انگیز۔فرمایا دیکھو اللہ کی لونڈیاں ہیں یہ اماءاللہ، ان پر ہاتھ نہ اٹھایا کرو۔خدا کا خیال کیا کرو کہ خدا کی پیار کی نظر پڑتی ہے عورتوں پر، اس کی بندیاں ہیں۔اس سے زیادہ حسین طریق مردوں کو عورتوں پر ہاتھ اٹھانے سے روکنے کا اور سوچاہی نہیں جاسکتا۔اور اس کا اتنا گہرا اثر پڑا، اتنا گہرا اثر پڑا معاشرے پر کہ آپ بظاہر یہ چھوٹی سی بات سن کر یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ جس جس تک یہ بات پہنچی ہے وہاں اس بات نے کیا کیا اثر دکھائے۔اس کے چند روز بعد حضرت عمر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ تعور تیں اپنے شوہروں پر غالب آگئیں ہیں۔یہ چھوٹی سی بات سے جسے آپ بظاہر چھوٹی سمجھ رہے ہیں کہ دیکھو اللہ کی بندیوں پر ہاتھ نہ اٹھایا کرو تمام مدینہ میں مسلمانوں کا حال اس طرح بدلا اس طرح رنگ ان کا الٹا کہ حضرت عمر کو یہ شکایت کرنی پڑی کہ یارسول اللہ