خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد۵ 120 خطبہ جمعہ ۷ فروری ۱۹۸۶ء یہ ہے جہاں جا کر بات پوری کھل جاتی ہے کہ قوام کا کیا معنی ہے۔قوام کا یہ معنی نہیں ہے کہ مرد خود جو چاہے کرتا پھرے ڈنڈے مار کر عورتوں کو سیدھا کرے۔قوام کا یہ معنی ہے کہ مرد اپنی اصلاح کرے کیونکہ جو کچھ وہ کرتا ہے، عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں۔اور چونکہ وہ اثر قبول کرنے والی ہیں اس لئے خاوند کے لئے ضروری ہے کہ اپنی اصلاح کرے اور اس اصلاح کو تاثیر کے طور پر اپنی بیویوں میں رائج کرے۔بعض دفعہ بعض مرد بد خلقی دکھاتے ہیں یا عورت سے متنفر ہوتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کی فلاں بات ہمیں پسند نہیں، اس کے اندر فلاں عادت جو ہے وہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔حالانکہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اگر کسی کی بدی کے نتیجے میں اسے چھوڑ نا ہو تو خدا کا تو بندے سے پھر تعلق قائم ہوہی نہیں سکتا۔کوئی انسان نہیں ہے جو ہر کمزوری سے پاک ہو۔اور خود وہ کمزوریوں سے پاک ہیں؟ کیا ان میں ایسی عادتیں نہیں ہیں جو عورتوں کو ناپسند ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ایک مومن اپنی مومن بیوی کے ساتھ بغض و نفرت نہ رکھے۔اگر اس سے اس کا کوئی خلق ناپسندیدہ ہے تو کوئی دوسرا اچھا اور پسندیدہ بھی تو ہے۔اس کے ساتھ کیوں نہیں تعلق جوڑتا۔(مسلم کتاب الرضاع حدیث نمبر: ۲۶۷۶) اس لئے یہ بہت ہی اہم ایک بہت ہی گہرا حکمت کا راز ہے معاشرے کی اصلاح کے لئے کہ ایک دوسرے کی بدیوں پر نظر ڈال کر متنفر ہونے کی بجائے اچھے پہلوؤں پر نظر رکھ کر محبت بڑھانے کی کوشش کیا کرو اور جس طرح کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو بدی سے پاک ہو اسی طرح کوئی انسان بھی ایسا آپ کو نہیں ملے گا جوحسن سے خالی ہو۔بدصورت سے بدصورت انسان میں بھی اور بدخلق سے بدخلق انسان میں بھی حسن کے کچھ پہلو ضرور موجود ہوتے ہیں۔اس لئے یہ وہ راز ہے جس کے نتیجے میں باہمی معاشرہ محبت کے بندھنوں میں باندھا جاتا ہے ورنہ نقائص کو دیکھنے لگیں تو کسی دو شخص کے درمیان ہرگز محبت کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا۔عورتوں کے متعلق گزشتہ مرتبہ میں نے کہا تھا کہ مرد اس بناء پر کہ قرآن کریم نے بعض شرائط کے ساتھ عورتوں کو بدنی سزادینے کی اجازت عطا فرمائی ہے، اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے مارنے